🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2393 ترقیم شاملہ: -- 6197
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد سے حضرت ابوبکر اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6197]
امام صاحب ایک اور استاد سے، ابوبکر اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2393
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2394 ترقیم شاملہ: -- 6198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَا جَابِرًا يُخْبِرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ، فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ عَلَيْكَ يُغَارُ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے کہا: (الفاظ انہی (زہیر) کے ہیں۔) ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو اور ابن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک گھر یا محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا (محل) ہے، میں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا، پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے غیرت کی جاتی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2394 ترقیم شاملہ: -- 6199
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا . ح وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرٍ.
اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو اور ابن منکدر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن نمیر اور زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6199]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2395 ترقیم شاملہ: -- 6200
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَبَكَى عُمَرُ، وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَيْكَ أَغَارُ؟.
یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں سعید بن مسیب سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کے جانبی حصے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا (محل) ہے؟ انہوں نے بتایا یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ مجھے عمر کی غیرت یاد آئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس آگیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے جبکہ ہم اس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6200]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت، ایک محل کے جانبی حصے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا (محل) ہے؟ انہوں نے بتایا یہ عمر خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ مجھے عمر کی غیرت یاد آئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس آگیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے جبکہ ہم اس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2395 ترقیم شاملہ: -- 6201
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6201]
یہی روایت امام صاحب تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2396 ترقیم شاملہ: -- 6202
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ سَعْدًا ، قَالَ: " اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ، يُكَلِّمْنَهُ، وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ، قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي، وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا، فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ ".
ابراہیم بن سعد نے صالح سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید نے بتایا کہ انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی، ان کے والد سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس (بیٹھی) آپ سے گفتگو کر رہی تھیں، بہت بول رہی تھیں، ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جانے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی، آپ اس وقت ہنس رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کے دندان مبارک کو مسکراتا رکھے! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، تمہاری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں۔ پھر حضرت عمر کہنے لگے: اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ ان عورتوں نے کہا: ہاں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے میں چلتے ہوئے ملتا ہے تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6202]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس (بیٹھی) آپ سے گفتگو کر رہی تھیں، بہت بول رہی تھیں اور ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جانے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی، آپ اس وقت ہنس رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ» اللہ تعالیٰ آپ کے دندانِ مبارک کو مسکراتا رکھے! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں تمہاری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ ان عورتوں نے کہا: ہاں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے میں چلتے ہوئے ملتا ہے تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2397 ترقیم شاملہ: -- 6203
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ قَدْ رَفَعْنَ أَصْوَاتَهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
سہیل نے اپنے والد صالح سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خواتین تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اندر آنے کی) اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ پھر انہوں نے زہری کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6203]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خواتین تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اندر آنے کی) اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2397
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2398 ترقیم شاملہ: -- 6204
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مِنْهُمْ "، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: تَفْسِيرُ مُحَدَّثُونَ مُلْهَمُونَ.
ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ فرمایا کرتے تھے: تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے بات کی جاتی تھی، اگر ان میں سے کوئی میری امت میں ہے تو عمر بن خطاب انہی میں سے ہے۔ ابن وہب نے کہا: مُحَدَّثُونَ کا مطلب ہے جن پر الہام کیا جاتا ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6204]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے، سو اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان میں داخل ہے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «مُحَدَّثُونَ» کی تفسیر «مُلْهَمُونَ» ہے (جن کی طرف الہام کیا جاتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2398
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2398 ترقیم شاملہ: -- 6205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سعید بن ابراہیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6205]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2398
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2399 ترقیم شاملہ: -- 6206
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ : أَخْبَرَنَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : " وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِي الْحِجَابِ، وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ ".
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی، مقام ابراہیم (کو نماز کی جگہ بنانے) میں، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں (کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6206]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تین باتیں اپنے رب کی منشا کے مطابق کیں، مقامِ ابراہیم کے بارے میں، پردہ کے بارے میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں