🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا:
باب: ام المؤمنین سیدہ ‏عائشہ رضی اللہ عنہماکی ‌‌فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6293
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا، وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ ".
مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہوں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے فرما رہے تھے اور آپ ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور انہوں نے کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی، آپ فرما رہے تھے: اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق (اعلیٰ) کے ساتھ ملا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6293]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے پہلے جبکہ وہ ان کے سینے کا سہارا لیے ہوئے تھے، کچھ سنا اور میں نے کان دھرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ» اے اللہ! مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے ساتھیوں سے ملا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6294
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر اور عبدہ بن سلیمان، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6294]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، ہشام ہی کے واسطہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6295
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69، قَالَتْ: فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، فرمایا: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ کہا: تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو گئی تھی آپ فرما رہے تھے: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا: یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) اور یہی بہترین رفیق ہیں۔ کہا: تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6295]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کو دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ [سورة النساء: 69] ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) اور یہی بہترین رفیق ہیں۔ فرماتی ہیں: تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6295]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6296
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
وکیع اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد (بن ابراہیم) سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6296]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6297
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، في رجال من أهل العلم، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَوْلَهُ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی موجودگی میں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے: کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جاتا ہے، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر فرمایا: اے اللہ! رفیق اعلیٰ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ آپ کے اپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی: کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخر کرانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اے اللہ! رفیق اعلیٰ! وہ آخری بات تھی جو آپ نے کہی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6297]
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی موجودگی میں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے: کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی، یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جاتا ہے، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ آپ کے اپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی: کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخر کرانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری بول جو آپ کی زبان پر آیا، یہ تھا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» اے اللہ! اوپر کا ساتھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2445 ترقیم شاملہ: -- 6298
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا، فَقَالَتْ: حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، قَالَتْ: بَلَى، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ سَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا، أَوْ حَيَّةً، تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا ".
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نام قرعہ نکلا، وہ دونوں آپ کے ساتھ سفر پر نکلیں، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جاتیں اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں! پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا (سوار) تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پایا تو انہیں سخت رشک آیا، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے پاؤں اذخر (کی گھاس) میں مار مار کر کہنے لگیں: یا رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں انہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6298]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام قرعہ نکلا، وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلیں، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جاتیں اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں! پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا (سوار) تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پایا تو انھیں سخت رشک آیا، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے پاؤں «الإِذْخِرِ» (کی گھاس) میں مار مار کر کہنے لگیں: «يَا رَبِّ» یا رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، وہ تیرے رسول ہیں اور میں انھیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔ (کیونکہ اونٹوں کا تبادلہ خود ہی کیا تھا) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2445
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2446 ترقیم شاملہ: -- 6299
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
سلیمان بن بلال نے عبداللہ بن عبدالرحمان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسی کھانوں پر ثرید کی فضیلت۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6299]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عورتوں پر فضیلت ایسی ہے جیسے «الثَّرِيدِ» (ثرید) کی باقی کھانوں پر فضیلت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6299]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2446
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2446 ترقیم شاملہ: -- 6300
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ بْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ.
اسماعیل بن جعفر اور عبدالعزیز بن محمد دونوں نے عبداللہ بن عبدالرحمان سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث روایت کی۔ ان دونوں کی حدیث (کی سند) میں یہ الفاظ نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور اسماعیل کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: انہوں نے انس بن مالک سے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6300]
امام صاحب یہی روایت اپنے دیگر اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2446
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2447 ترقیم شاملہ: -- 6301
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ".
عبدالرحیم بن سلیمان اور یعلیٰ بن عبید نے زکریا سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ان (ابوسلمہ) کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تم کو سلام کہتے ہیں۔ کہا: تو میں نے (جواب میں) کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ (اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو!)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6301]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» جبریل (علیہ السلام) تمہیں سلام کہتے ہیں۔تو میں نے کہا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ» ان پر اللہ کی طرف سے سلامتی اور رحمت نازل ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2447
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2447 ترقیم شاملہ: -- 6302
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.ش
ابوبکر کوفی نے کہا: ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے شعبی کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، ان دونوں کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6302]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2447
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں