صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب في فضل عائشة رضي الله تعالى عنها:
باب: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہماکی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6297
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، في رجال من أهل العلم، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَوْلَهُ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی موجودگی میں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جاتا ہے، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر فرمایا: ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ!“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ آپ کے اپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی: ”کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخر کرانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ!“ وہ آخری بات تھی جو آپ نے کہی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6297]
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی موجودگی میں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی، یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جاتا ہے، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ!“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ آپ کے اپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی: ”کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخر کرانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری بول جو آپ کی زبان پر آیا، یہ تھا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! اوپر کا ساتھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥شعيب بن الليث الفهمي، أبو عبد الملك شعيب بن الليث الفهمي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة | |
👤←👥عبد الملك بن شعيب الفهمي، أبو عبد الله عبد الملك بن شعيب الفهمي ← شعيب بن الليث الفهمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4436
| في الرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
6348
| الرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
4437
| في الرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
4463
| الرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
6509
| الرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
4438
| في الرفيق الأعلى ثلاثا |
صحيح البخاري |
5674
| اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
4440
| اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق |
صحيح البخاري |
4449
| في الرفيق الأعلى |
صحيح البخاري |
4451
| في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى |
صحيح مسلم |
6297
| الرفيق الأعلى |
صحيح مسلم |
6293
| اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق |
جامع الترمذي |
3496
| اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى |
Sahih Muslim Hadith 6297 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق