🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

217. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2472 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3649
نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ سَهْلا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ:" لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ"، فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ:" أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرِئَ، حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ: وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا , قَالَ:" انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: کل میں پرچم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔ صحابہ کرام رات بھر یہ سوچتے رہے کہ پرچم کس کو ملے گا، صبح سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، ہر ایک امید کر رہا تھا کہ اسے پرچم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا: ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں پر تھوکا اور دعا فرمائی، وہ بالکل تندرست ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پرچم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں ان سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح نہ ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آرام سے جاؤ، جب ان کے میدان میں پہنچو تو پہلے اسلام کی دعوت دو اور اللہ کے حق کو واضح کرو، اللہ کے ذریعے ایک آدمی کو تمہارے ہاتھ پر ہدایت دینا تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3649]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2942، 3009، 3701، 4210، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2406، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6932، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8093، 8348، 8533، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3661، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2472، 2473، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18297، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23284»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2473 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3650
نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , إِلا أَنَّهُ قَالَ:" وَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِهُدَاكَ رَجُلا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہاری ہدایت کے ذریعے ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2942، 3009، 3701، 4210، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2406، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6932، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8093، 8348، 8533، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3661، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2472، 2473، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18297، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23284»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2474 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3651
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ"، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَحْبَبْتُ الإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَقَالَ:" انْطَلِقْ وَلا تَلْتَفِتْ"، فَمَشَى سَاعَةً، ثُمَّ وَقَفَ، وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ:" قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں پرچم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن مجھے کبھی امارت کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، پرچم ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: جاؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چلے، پھر رکے اور بغیر مڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کن چیزوں پر ان سے قتال کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتال کرو یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جب وہ یہ کہہ دیں گے تو ان کا خون اور مال محفوظ ہو جائے گا، مگر حق اسلام کے تحت، اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2405، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6933، 6934، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8095، 8349، 8350، 8351، 8352، 8549، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2474، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9112، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32759، 38037، 38050»
قال الدارقطني: والصواب قول وهيب ومن تابعه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 109)

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2475 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3652
نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَلا أُخْبِرُكَ مَا نَصْنَعُ فِي مَغَازِينَا؟ قَالَ: لا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَّ بِقَرْيَةٍ" دَعَا أَهْلَهَا إِلَى الإِسْلامِ، فَإِنِ اتَّبَعُوا خَلَطَهُمْ بِنَفْسِهِ وَأَصْحَابِهِ، وَإِنْ أَبَوْا دَعَاهُمْ إِلَى الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَعْطَوْا قَبِلَهَا مِنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا آذَنَهُمْ عَلَى سَوَاءٍ، وَكَانَ أَدْنَى أَصْحَابِهِ إِذَا أَعْطَى الْعَهْدَ وَفَّوْا بِهِ أَجْمَعُونَ" .
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابا محمد! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ ہم اپنے معرکوں میں کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہ بتاؤ۔ اس شخص نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قریہ میں قیام فرماتے تو اہل قریہ کو اسلام کی دعوت دیتے، اگر وہ مان لیتے تو انہیں اپنے اور اپنے صحابہ میں شامل فرما لیتے، اور اگر انکار کرتے تو جزیہ کی دعوت دیتے، اگر وہ جزیہ دیتے تو قبول کر لیتے، اور اگر انکار کرتے تو برابری کی بنیاد پر اعلان جنگ کرتے، اور آپ کے ادنیٰ صحابی بھی اگر کسی سے عہد لیتے تو سب مل کر اسے پورا کرتے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2475، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9421، 9432»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں