سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
238. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَمَلِ فِي الدَّفْنِ
باب: تدفین کے عمل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2582 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3759
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالُوا: كَيْفَ تَأْمُرُنَا بِقَتْلانَا؟ فَقَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الاثْنَيْنِ وَالثَّلاثَةَ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" . قَالَ هِشَامٌ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيِ اثْنَيْنِ.
سیدنا ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: احد کے دن صحابہ نے زخموں کی شکایت کی اور کہا: ”یا رسول اللہ! اپنے مقتولین کے بارے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کرو، حسن طریقے سے دفناؤ، اور ایک قبر میں دو یا تین کو دفن کرو، اور قرآن زیادہ یاد کرنے والے کو آگے رکھو۔“ ہشام کہتے ہیں: میرے والد کو دو افراد کے ساتھ آگے رکھا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2009، 2010، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2148، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3215، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1713، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1560، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2582، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16509، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37943»
قال ابن أبي حاتم في علله سألت أبي أي هذين الحديثين أصح فقال حديث حميد عن هشام يعني بدون واسطة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 295)
قال ابن أبي حاتم في علله سألت أبي أي هذين الحديثين أصح فقال حديث حميد عن هشام يعني بدون واسطة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 295)
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2583 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3760
نا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، وَلَمْ أُتْقِنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ حَدَّثَ، عَنِ ابْنِ صُعَيْرٍ، أَوِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَقَالَ:" قَدْ شَهِدْتُ عَلَى هَؤُلاءِ فَزَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَكُلُومِهِمْ" .
سیدنا ابن صعیر یا ابن ابی صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہداء پر جھکے اور فرمایا: ”میں ان پر گواہ ہوں، انہیں ان کے خون اور زخموں کے ساتھ کفناؤ۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث: «إسنادہ ضعیف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 103، 104، 105، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5253، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2001، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2140، 4341، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2583، 2584، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6902، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24146»
وضاحت: وضاحت: یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ: زہری سے سفیان کا اتقان ناقص ہے ("لم أتقنه")، راوی کا نام مبہم ہے (ابن صعير یا ابن أبي صعير؟)، عبد اللہ بن ثعلبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات تو ثابت ہے مگر سماع نہیں، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی روایت اصولاً مرسل ہوگی، اور مرسل صحابی کی روایت، خصوصاً جب ضعف بھی شامل ہو، ضعیف کہلاتی ہے۔
مضمون صحیح شواہد سے تقویت پاتا ہے، (کیونکہ شہداء احد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیگر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں۔)
مضمون صحیح شواہد سے تقویت پاتا ہے، (کیونکہ شہداء احد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیگر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں۔)
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
ترقیم دار السلفیہ: 2584 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3761
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ:" زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" .
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون میں لپیٹ دو، اور قرآن زیادہ جاننے والے کو آگے رکھو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعیف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 103، 104، 105، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5253، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2001، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2140، 4341، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2583، 2584، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6902، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24146»
وضاحت: وضاحت: عبد اللہ بن ثعلبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات تو ثابت ہے مگر سماع نہیں، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی روایت اصولاً مرسل ہوگی، اور مرسل صحابی کی روایت، خصوصاً جب ضعف بھی شامل ہو، ضعیف کہلاتی ہے۔
مضمون صحیح شواہد سے تقویت پاتا ہے، (کیونکہ شہداء احد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیگر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں۔)
مضمون صحیح شواہد سے تقویت پاتا ہے، (کیونکہ شہداء احد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیگر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں۔)
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف