سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
247. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الرُّهْبَانِ وَالشَّمَامِسَةِ
باب: راہبوں اور عیسائی مذہبی خادموں (شمامسہ) کو قتل کرنے کے بارے میں وارد احکام۔
ترقیم دار السلفیہ: 2634 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3811
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ نَرَ الْجُيُوشَ يُهَيِّجُونَ الرُّهْبَانَ الَّذِينَ عَلَى الأَعْمِدَةِ، وَلَمْ نَزَلْ نُنْهَى عَنْ قَتْلِهِمْ إِلا أَنْ يُقَاتِلُوا" .
بکر بن سوادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہم نے لشکروں کو دیکھا کہ وہ ان راہبوں کو چھیڑتے نہیں تھے جو ستونوں پر ہوتے، جب تک وہ لڑائی نہ کریں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3811]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2635 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3812
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ الشَّمَامِسَةُ مِنَ الْعَدُوِّ، وَيَقُولُ: " لأَنْ أَقْتُلَ رَجُلا مِنْهُمْ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْتُلَ سَبْعِينَ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لا أَيْمَانَ لَهُمْ سورة التوبة آية 12" .
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دشمن کے پادریوں کو قتل کرتے اور فرماتے: ”ان کا قتل مجھے دوسروں کے ستر قتل سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: «فقاتلوا أئمة الكفر» ۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3812]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: یہ اثر موقوف ہے: یعنی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنا قول اور عمل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں۔ آیت قرآن کی تفسیر کے ساتھ تطبیق کی گئی ہے۔
فائدہ: مضمون شریعت کے عام اصولات سے مؤید ہے: کفار کے سرکردہ اور رہنما افراد کا قتل زیادہ اہم ہے کیونکہ ان کے ختم ہونے سے کفار کی طاقت ٹوٹتی ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت { فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ } اسی کی تائید کرتی ہے۔
فائدہ: مضمون شریعت کے عام اصولات سے مؤید ہے: کفار کے سرکردہ اور رہنما افراد کا قتل زیادہ اہم ہے کیونکہ ان کے ختم ہونے سے کفار کی طاقت ٹوٹتی ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت { فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ } اسی کی تائید کرتی ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح