صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الزجر عن الرغبة عن سنة المصطفى صلى الله عليه وسلم في أقواله وأفعاله جميعا-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کی سنت (قول و فعل) سے بےرغبت ہونا ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 14
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لا أَتَزَوَّجُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا، لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوشیدہ اعمال کے بارے میں دریافت کیا: (یعنی آپ خلوت میں جو عبادت کرتے تھے، اس کے بارے میں دریافت کیا) تو ان افراد میں سے ایک نے یہ کہا: میں شادی نہیں کروں گا۔ ایک نے یہ کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔، ایک نے یہ کہا: میں بچھونے پر نہیں سوؤں گا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اس بارے میں خطاب کرتے ہوئے)،اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ اس، اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، جہاں تک میرا معاملہ ہے، تو میں (رات کے وقت نقل) نماز ادا بھی کرتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔ میں (نفلی) روزہ رکھ بھی لیتا ہوں اور ترک بھی کر دیتا ہوں، میں نے خواتین کے ساتھ شادیاں بھی کی ہیں، جو شخص میری سنت سے منہ موڑتا ہے۔ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 14]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1782): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال مسلم عدا محمد بن أبي صفوان. تنبيه!! لم يبين الشيخ شعيب حال «محمد بن أبي صفوان»، وهو ثقة كما قال عنه أبو حاتم، وقال النسائى: لا بأس به. وذكره ابن حبان فى كتاب «الثقات»، وقال: مات سنة خمسين ومئتين أو قبلها بقليل أو بعدها بقليل. وقال الحافظ ابن حجر في «التقريب»: «ثقة». - مدخل بيانات الشاملة -.