صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
13. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - فصل ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يأمر أمته بما يحتاجون إليه من أمر دينهم قولا وفعلا معا-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ اپنی امت کو ان کے دین کے تمام ضروری امور قولاً و عملاً سکھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 15
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيَمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ، فَقَالَ:" يَعْمِدُ أَحَدُهُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنَ النَّارِ، فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ" ، فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَمَا ذَهَبَ: خُذْ خَاتَمَكَ، فَانْتَفِعْ بِهِ، فَقَالَ: لا وَاللَّهِ لا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی بنی ہوئی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتارا اور ایک طرف رکھ دیا۔، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص جہنم کے انگارے کی طرف جاتا ہے، اور اسے اپنے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے۔“، (راوی بیان کرتے ہیں) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، تو ان صاحب سے یہ کہا: گیا: تم اپنی انگوٹھی لو اور اس کے ذریعے نفع حاصل کرو (یعنی اسے فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کرو)، تو اس شخص نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں لوں گا، جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک طرف کر دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 15]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «آداب الزفاف» (126): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح. ابن أبي مريم: هو سعيد بن الحكم أبو محمد المصري.