🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالشيء لا يجوز إلا أن يكون مفسرا يعقل من ظاهر خطابه-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کا کسی چیز کا حکم دینا تبھی درست ہے جب وہ حکم صاف طور پر عقلی طور پر سمجھ آ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذْ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نُودِيَ بِالأَذَانِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَقُضِيَ الأَذَانُ، أَقَبْلُ، فَثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَقُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقَبْلُ يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى؟ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: أَمْرُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، أَمْرٌ مُجْمَلٌ، تَفْسِيرُهُ أَفْعَالُهُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا، لا يَجُوزُ لأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ الأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلُ السَّلامِ، فَيَسْتَعْمِلَهُ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، وَيَتْرُكَ سَائِرَ الأَخْبَارِ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُهُ بَعْدَ السَّلامِ، وَكَذَلِكَ لا يَجُوزُ لأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ الأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ، فَيَسْتَعْمِلَهُ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، وَيَتْرُكَ الأَخْبَارَ الأُخَرَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُهُ قَبْلُ السَّلامِ، وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ هَذِهِ أَخْبَارٌ أَرْبَعٌ يَجِبُ أَنْ تُسْتَعْمَلَ، وَلا يُتْرَكُ شَيْءٌ مِنْهَا، فَيَفْعَلُ فِي كُلِّ حَالَةٍ مِثْلَ مَا وَرَدَتِ السُّنَّةُ فِيهَا سَوَاءً، فَإِنْ سَلَّمَ مِنَ الاثْنَتَيْنِ أَوِ الثَّلاثِ مِنْ صَلاتِهِ سَاهِيَا، أَتَمَّ صَلاتَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ، عَلَى خَبَرِ أَبِي هُرَيرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا، وَإِنْ قَامَ مِنِ اثْنَتَيْنِ وَلَمْ يَجْلِسْ أَتَمَّ صَلاتَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلُ السَّلامِ، عَلَى خَبَرِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَإِنْ شَكَّ فِي الثَّلاثِ أَوِ الأَرْبَعِ، يَبْنِي عَلَى الْيَقِينِ عَلَى مَا وَصَفْنَا، وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلُ السَّلامِ، عَلَى خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَإِنْ شَكَّ وَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى أَصْلا تَحَرَّى عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ وَأَتَمَّ صَلاتَهُ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ، عَلَى خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، حَتَّى يَكُونَ مُسْتَعْمِلا لِلأَخْبَارِ الَّتِي وَصَفْنَاهَا كُلَّهَا، فَإِنْ وَرَدَتْ عَلَيْهِ حَالَةٌ غَيْرُ هَذِهِ الأَرْبَعِ فِي صَلاتِهِ، رَدَّهَا إِلَى مَا يُشْبِهُهَا مِنَ الأَحْوَالِ الأَرْبَعِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
جب اذان دی جاتی ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر وہاں تک چلا جاتا ہے، جہاں تک وہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، جب اذان مکمل ہو جاتی ہے، تو وہ پھر آ جاتا ہے، پھر جب اقامت کہی جاتی ہے، تو وہ پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے، تو وہ پھر آ جاتا ہے، اور آدمی کے دل میں مختلف طرح کے خیالات پیدا کرتا ہے، تم فلاں چیز یاد کرو تم فلاں چیز یاد کرو! اور ایسی چیزیں، یاد کرواتا ہے، جو آدمی نے ویسے یاد نہیں کرنی تھیں۔
حتی کہ آدمی کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ تو جب آدمی کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ تو اسے (آخری قعدہ میں) بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہئے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ایسے شخص کے لئے ہے، جسے اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جاتا ہے اور اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کر لی ہے؟ تو وہ (قعدہ اخیرہ میں بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، یہ حکم مجمل ہے، اس کی وضاحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل میں ہے جس کا ذکر ہم نے کیا ہے۔ کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ان روایات کو اختیار کرے، جن میں یہ مذکور ہے کہ سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے کیا جائے گا اور پھر وہ شخص ان روایات کو ہر طرح کی صورتحال میں اختیار کرے اور ان تمام روایات کو ترک کر دے جن میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا ذکر ہے۔
اسی طرح کسی بھی شخص کے لئے یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ وہ صرف ان روایات کو اختیار کر لے جن میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا ذکر ہے اور پھر ان روایات پر ہر طرح کی صورتحال میں عمل کرے اور ان دوسری تمام روایات کو ترک کر دے جن میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا ذکر ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہم یہ کہتے ہیں: یہ چار طرح کی روایات ہیں اور یہ بات لازم ہے کہ ان پر عمل کیا جائے، اور ان میں سے کسی کو بھی ترک نہ کیا جائے، تو جس طرح کی صورتحال درپیش ہو اس کے مطابق، اس بارے میں منقول حدیث کے مطابق عمل کیا جائے۔ اگر کوئی شخص اپنی نماز کی دو یا تین رکعات ادا کر لینے کے بعد بھول کر سلام پھیر دیتا ہے، تو وہ اپنی نماز کو مکمل کر لے گا اور سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد کرے گا۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں مذکور ہے جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ اگر وہ دو رکعات ادا کر لینے کے بعد (بیٹھنے کی بجائے) کھڑا ہو جاتا ہے۔ بیٹھتا نہیں ہے، تو وہ اپنی نماز جاری رکھے گا اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے گا۔ جیسا کہ ابن بحینہ رضی اللہ علیہ سے منقول روایت میں مذکور ہے۔
اگر اسے تین یا چار رکعات کی ادائیگی کے حوالے سے شک ہوتا ہے، تو وہ یقین پر بناء قائم کرے گا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
اور پھر سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے گا۔ جیسا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سے ثابت ہے۔
اگر آدمی کو شک لاحق ہو، اور اسے یہ سمجھ نہ آئے کہ اس نے کتنی نماز (یعنی کتنی رکعات) ادا کی ہیں، تو وہ غالب گمان قائم کرنے کی کوشش کرے۔ (اور اس کی بنیاد پر) اپنی نماز کو مکمل کر لے۔ وہ (اس صورتحال میں) سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے گا۔ اس کی بنیاد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے۔ جسے ہم ذکر کر چکے ہیں۔
(تو اس صورت میں) آدمی تمام احادیث پر عمل کرنے والا بن جائے گا، جن کو ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر ان چار صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت کسی شخص کو درپیش ہوتی ہے، تو اسے اس صورت کی طرف لوٹایا جائے گا، جو ان چار صورتوں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں ان میں سے جس صورت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے۔
[صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 16]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (529): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، ما خلا شيخ ابن حبان عبد الله بن محمد الأزدي وهو ثقة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں