صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. ذكر الخبر الدال على إباحة إظهار المرء بعض ما يحسن من العلم إذا صحت نيته في إظهاره-
- اس خبر کا ذکر کہ اگر نیت درست ہو تو انسان کے لیے اپنے علم میں سے کچھ ظاہر کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، وَالنَّاسُ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهُمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدَكَ فَعَلا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَبِّرْ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَالْقُرْآنُ حَلاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، أَخَذْتَهُ فَيُعْلِيكَ الِلَّهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدَكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا"، قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ:" لا تُقْسِمْ" .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ بیان کیا کرتے تھے: ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے گزشتہ رات ایک بادل دیکھا ہے، جس سے گھی اور شہد کی بارش ہو رہی تھی اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے۔ کوئی شخص زیادہ لے رہا تھا، اور کوئی کم لے رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی دیکھی۔ پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا، تو وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر اس شخص کے لئے اسے ملا دیا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم تعبیر بیان کرو! تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: بادل سے مراد اسلام کا بادل ہے، اور اس سے ٹپکنے والے گھی اور شکر (سے مراد) قرآن ہے۔ اس کی حلاوت اور نرمی مراد ہے۔ جہاں تک لوگوں کا اسے ہاتھوں میں لینے کا تعلق ہے، تو کچھ لوگ قرآن کا زیادہ علم حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا کم علم حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک آسمان سے نیچے لٹکنے والی رسی کا تعلق ہے، تو یہ وہ حق ہے، جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ نے اس کو اختیار کیا، تواللہ تعالیٰ نے آپ کو سر بلندی عطا کی۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑ لیا، تو اس نے اس کے ذریعے سر بلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا، تو اس نے اس کے ذریعے سر بلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا، تو رسی منقطع ہو گئی۔ پھر اس شخص کے لئے اسے ملا دیا گیا، تو اس نے بھی سر بلندی حاصل کی۔ یا رسول اللہ! آپ مجھے بتائیے۔ میرے والد آپ پر قربان ہوں کیا میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی ہے یا غلط بیان کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کچھ تعبیر غلط بیان کی ہے، اور کچھ ٹھیک بیان کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ میں نے کہاں غلطی کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قسم نہ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 111]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (121)، «الظلال» (1143): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.