صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. باب فضل الإيمان-
ایمان کی فضیلت کا بیان -
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا رِيَاحُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نَادِ فِي النَّاسِ: مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَخَرَجَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: ارْجِعْ، فَأَبَيْتُ، فَلَهَزَنِي لَهْزَةً فِي صَدْرِي أَلَمُهَا، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَجِدْ بُدًّا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ هَذَا بِكَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ طَمِعُوا وَخَشُوا، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْعُدْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص یہ اعتراف کرے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام کے ہمراہ بھیجا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم واپس جاؤ! میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی، تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، جس کی تکلیف میں نے محسوس کی۔ میں واپس آ گیا، میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اسے اس پیغام کے ہمراہ بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ خوشخبری سن کر (لوگ) جنت کی امید رکھیں گے اور وہ ڈریں گے (حاشیے میں وضاحت ہے، یہاں لفظ غلط نقل ہوا ہے۔ اصل لفظ یہ ہے، وہ لوگ خراب ہو جائیں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2355).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محرر بن قعنب وثقه أبو زرعة، كما في «الجرح والتعديل» 8/ 408، وباقي رجال الإسناد ثقات.