🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب فضل الإيمان-
ایمان کی فضیلت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا رِيَاحُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نَادِ فِي النَّاسِ: مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَخَرَجَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: ارْجِعْ، فَأَبَيْتُ، فَلَهَزَنِي لَهْزَةً فِي صَدْرِي أَلَمُهَا، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَجِدْ بُدًّا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ هَذَا بِكَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ طَمِعُوا وَخَشُوا، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْعُدْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص یہ اعتراف کرے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدنا جابر صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام کے ہمراہ بھیجا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم واپس جاؤ! میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی، تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، جس کی تکلیف میں نے محسوس کی۔ میں واپس آ گیا میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اسے اس، اس پیغام کے ہمراہ بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ خوشخبری سن کر (لوگ) جنت کی امید رکھیں گے۔ اور وہ ڈریں گے (حاشیے میں وضاحت ہے، یہاں لفظ غلط نقل ہوا ہے۔ اصل لفظ یہ ہے، وہ لوگ خراب ہو جائیں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا جابر) سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 151]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2355).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محرر بن قعنب وثقه أبو زرعة، كما في «الجرح والتعديل» 8/ 408، وباقي رجال الإسناد ثقات.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥رياح بن عبيدة الباهلي
Newرياح بن عبيدة الباهلي ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥محرر بن قعنب الباهلي
Newمحرر بن قعنب الباهلي ← رياح بن عبيدة الباهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر
Newحفص بن عمر الأزدي ← محرر بن قعنب الباهلي
ثقة ثبت
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← حفص بن عمر الأزدي
ثقة ثبت