🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان والإسلام اسمان لمعنى واحد-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ایمان اور اسلام ایک ہی معنی کے دو نام ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 158
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ طَاوُسًا ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لابْنِ عُمَرَ: أَلا تَغْزُو؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بُنِيَ الإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَانِ خَبَرَانِ خَرَجَ خِطَابُهُمَا عَلَى حَسَبِ الْحَالِ، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الإِيمَانَ، ثُمَّ عَدَّهُ أَرْبَعَ خِصَالٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الإِسْلامَ وَعَدَّهُ خَمْسَ خِصَالٍ، وَهَذَا مَا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: بِأَنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ فِي لُغَتِهَا بَعْدَدٍ مَعْلُومٍ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ، وَلَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الإِيمَانَ لا يَكُونُ إِلا مَا عُدَّ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لأَنَّهُ ذَكَرَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ خَبَرٍ أَشْيَاءَ كَثِيرَةً مِنَ الإِيمَانِ لَيْسَتْ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَلا ابْنِ عَبَّاسٍ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا.
حنظلہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں: میں نے عکرمہ بن خالد کو طاؤس کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ جہاد میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) یہ دو روایات جن میں الفاظ کا مخصوص پس منظر ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا ذکر کیا ہے اور پھر آپ نے اس کے لئے چار خصلتوں کا تذکرہ کیا ہے، پھر آپ نے اسلام کا تذکرہ کیا اور اس کے لئے پانچ خصلتوں کا تذکرہ کیا۔ یہ وہ صورت ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاور ے میں کسی متعین تعداد کے ہمراہ کسی چیز کا ذکر کرتے ہیں اور اس متعین تعداد کے تذکرے سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ اس کے علاوہ تعداد کی نفی کر دی جائے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مراد نہیں لیا کہ ایمان سے مراد صرف وہی امور ہوں گے جن کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر روایات میں دیگر بہت سی اشیاء کا ایمان کا حصہ ہونے کا ذکر کیا ہے، جن کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ان دو روایات میں نہیں ہے، جنہیں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 158]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (781)، ويأتي (1443): ق. تنبيه!! رقم (1443) = (1446) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں