🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب فرض الإيمان - ذكر وصف قوله صلى الله عليه وسلم وحد الله وكفر بما يعبد من دونه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «وحد اللہ وکفر بما یعبد من دونه» کی وضاحت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ الْوَفْدُ، أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟"، قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ:" مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَدَامَى"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، وَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ" ، قَالَ شُعْبَةُ: وَرُبَّمَا قَالَ: وَالنَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ:" احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوهُ مَنْ وَرَاءَكُمْ".
ابوجمرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتا تھا۔ (یعنی جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ گورنر تھے، تو میں ان کا سیکرٹری تھا) ایک مرتبہ ایک خاتون ان کے پاس آئی وہ ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا: عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کہاں کا وفد ہے، اور کون سی قوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ربیعہ (قبیلے سے ہمارا تعلق ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قوم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس وفد کو خوش آمدید جو کسی رسوائی اور ندامت کے بغیر ہو۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم دور دراز کے علاقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار کا قبیلہ حائل ہے۔ اس لئے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیجئے، جسے ہم اپنے پیچھے والوں کو بتا دیں اور اس کی وجہ سے ہم لوگ جنت میں داخل ہو سکیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور انہیں چار چیزوں سے منع کیا۔ آپ نے انہیں صرفاللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ صرفاللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے سے مراد کیا ہے؟ تو ان لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں (مزید احکام یہ ہیں) نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، معرفت اور نقیر (استعمال کرنے سے منع کیا) یہاں شعبہ نامی راوی بعض اوقات لفظ نقیر نقل کرتے ہیں اور بعض اوقات لفظ مقیر نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان باتوں کو یاد کر لو اور اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ان کے بارے میں بتا دینا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 172]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (157).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين؛ أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضبعي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں