صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. باب فرض الإيمان - ذكر إيجاب الجنة لمن شهد لله جل وعلا بالوحدانية مع تحريم النار عليه به-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اللہ جل وعلا کی وحدانیت کی گواہی دے، اس پر جہنم حرام اور جنت واجب ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 199
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ بَيْضَاءَ ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ، حَتَّى اجْتَمَعُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ حَرَّمَهُ الِلَّهِ عَلَى النَّارِ، وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ خَرَجَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ، وَهُوَ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولُ السُّنَنِ، أَنَّ الْخَبَرَ كَانَ خِطَابُهُ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُحْكَمَ بِهِ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، وَكُلُّ خِطَابٍ كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ، فَهُوَ عَلَى ضَرْبَيْنِ: أَحَدُهُمَا: وُجُودُ حَالَةٍ مِنْ أَجْلِهَا ذَكَرَ مَا ذَكَرَ لَمْ تُذْكَرْ تِلْكَ الْحَالَةُ مَعَ ذَلِكَ الْخَبَرِ، وَالثَّانِي: أَسْئِلَةٌ سُئِلَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَابَ عَنْهَا بِأَجْوِبَةٍ، فَرُوِيَتْ عَنْهُ تِلْكَ الأَجْوِبَةُ مِنْ غَيْرِ تِلْكَ الأَسْئِلَةِ، فَلا يَجُوزُ أَنْ يُحْكَمَ بِالْخَبَرِ كَانَ هَذَا نَعَتُهُ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ دُونَ أَنْ يُضَمَّ مُجْمَلُهُ إِلَى مُفَسَّرِهِ، وَمُخْتَصَرُهُ إِلَى مُتَقَصَّاهُ.
سیدنا سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو عبدالدار سے ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، تو آپ نے اپنے سے آگے والے لوگوں کو بٹھا دیا اور آپ سے پیچھے آنے والے لوگ آپ تک پہنچ گئے۔ جب لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جو شخص اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تواللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا اور اس کے لئے جنت کو واجب کر دے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب حالت کے مخصوص پس منظر کے حوالے سے ہے، اور یہ اس قسم سے تعلق رکھتا ہے، جس کو میں نے کتاب ”مغول السنن“ میں ذکر کیا ہے۔ کہ جب کسی روایت میں خطاب کا مخصوص پس منظر ہو، تو اب یہ بات جائز نہیں ہے کہ تمام حالتوں میں اس کے مطابق فیصلہ دیا جائے، اور ہر وہ خطاب، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص پس منظر کے ساتھ صادر ہوا ہو اس کی دو قسمیں ہوں گی ان میں سے ایک قسم یہ ہے: وہ کسی حالت کی موجودگی میں ہو گا، اور اسی کی وجہ سے اس چیز کو ذکر کیا گیا ہو۔ اس حالت کو اس خبر کے ہمراہ ذکر نہیں کیا گیا ہو گا۔ دوسری صورت یہ ہے: کچھ سوالات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے گئے ہوں گے آپ نے ان کے جوابات عنایت کیے ہوں گے، تو ان جوابات کو روایت کر لیا گیا اور سوالات روایت نہیں ہو سکے، تو اب یہ بات جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس روایت کی بنا پر فیصلہ دے، جو ہر حالت میں ہو۔ اس میں مجمل اور مفسر یا مختصر اور تفصیلی کا خیال نہ رکھا گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 199]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر التعليق. * [سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ] قال الشيخ: لم يُوثِّقه غيرُ المؤلِّف، ولم يروِ عنه غيرُ محمد بن إبراهيمَ هذا، وبكرُ بن سوادة، ثم إنَّه لم يسمع مِن سُهيلٍ، لأن هذا مات في عهد النبي صلّى الله عليه وسلّم، وصلّى عليه في مسجدِه، فالسندُ ضعيفٌ. وكذا رواه أحمد (3/ 467) وغيره. وفي روايةٍ عنده بإسقاط سعيد بن الصلت مِن إسنادِه. فهو - على هذا - مُعضلٌ. لكنَّ الحديث صحيحٌ، له شواهد كثيرةٌ في «الصحيحين» غيرِهما، مثل حديث معاذ - المتفق عليه -، انظر: «مختصر البخاري» رقم (85)، وحديث عمر الآتي (204).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح غير سعد بن الصلت، فإنه لم يوثقه غير المؤلف، ولم يذكر فيه ابن أبي حاتم 4/ 34 جرحاً ولا تعديلاً، وروايته عن سهيل مرسلة، فإنه لم يدركه ولم يسمع منه، لأن سهيلاً قد توفي ورسول الله حي، كما في «صحيح مسلم «» من حديث عائشة.