صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
84. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الله جل وعلا قد يجمع في الجنة بين المسلم وقاتله من الكفار إذ سدد بعد ذلك وأسلم-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا مسلمان اور اس کے کافر قاتل کو بھی جنت میں جمع کر سکتا ہے اگر قاتل بعد میں سیدھے راستے پر آ جائے اور اسلام قبول کرے۔
حدیث نمبر: 215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَضْحَكُ الِلَّهِ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، وَكِلاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ: يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ الِلَّهِ عَلَى الْقَاتِلِ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے، جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے، اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے، پھراللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 215]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1074): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.