صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
85. باب فرض الإيمان - ذكر أمر الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بقتال الناس حتى يؤمنوا بالله-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے قتال کریں یہاں تک کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئیں۔
حدیث نمبر: 216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ مِنْ حَقِّ الْمَالِ، وَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا" قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو عربوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کفر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا ابوبکر! آپ لوگوں کے ساتھ کیسے جنگ کریں گے؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ اعتراف نہ کر لیں کہاللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو شخص یہ کہہ دے:اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اس کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایسے شخص کے ساتھ جنگ کروں گا، جو نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ بے شک زکوۃ مال کا حق ہے اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی ایسا بکری کا بچہ دینے سے انکار کریں، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان کے اس انکار کرنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اندازہ لگا لیا کہ جنگ کے حوالے سےاللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو شرح صدر عطا کیا ہے، اور مجھے یہ پتہ چل گیا کہ یہی بات درست ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 216]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (407)، «صحيح أبي داود» (1391): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح؛ عمرو بن عثمان بن سعيد: هو ابن كثير بن دينار القرشي، مولاهم، صدوق، وأبوه ثقة، وباقي السند على شرطهما.