🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به طارق بن شهاب-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف طارق بن شِہاب سے منفرد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلانُ بْنُ فُلانٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، زَادَ إِسْحَاقُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنَّ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور اس نے نماز ادا کرنے سے پہلے خطبہ دیا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: اے مروان! تم سنت کے برخلاف کر رہے ہو، تم نے عید کے دن منبر نکالا ہے، حالانکہ عید کے دن اسے نہیں نکالا جاتا اور تم نماز سے پہلے خطبہ دے رہے ہو، حالانکہ اس سے آغاز نہیں کیا جا سکتا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہ شخص کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ فلاں بن فلاں ہے، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے اپنے ذمے لازم فرض کو ادا کر لیا ہے۔ یہاں اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں۔ (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:) ”تم میں سے جو شخص کوئی منکر دیکھے، تو وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے ختم کرے، اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو اپنی زبان کے ذریعے کرے اور اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل کے اندر سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے زیادہ کمزور مرتبہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، 1951، 2658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 80، 889، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، 307، 3321، 5744، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، 4013، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں