🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

325. فصل في تشميت العاطس - ذكر ما يقال للعاطس إذا حمد الله عند عطاسه
فصل چھینکنے والے کی دعا - اس بات کا ذکر کہ چھینکنے والے کو کیا کہنا چاہیے جب وہ چھینکنے پر اللہ کی حمد کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرُدَّ مَا اسْتَطَاعَ، وَلا يَقُلْ: هَاوْ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ: هَاوْ، ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ، فقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ" لَمْ أَسْمَعْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ" فَحَقٌّ" ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، چنانچہ جب کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے روکنے کی کوشش کرے اور ”ہاؤ“ نہ کہے، کیونکہ جب وہ ”ہاؤ“ کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے، اور جب کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہے اور جو اس کو حمد کہتے ہوئے سنے اس پر لازم ہے کہ وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق نامی راوی کی زبانی (روایت کے الفاظ میں) لفظ ”حق“ (تو یہ بات لازم ہے) نہیں سنا ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3289، 6223، 6224، 6226، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2994، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 920، 921، 922، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 598، 602، 2357، 2358، 2359، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7778، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5028، 5033، والترمذي فى (جامعه) برقم: 370، 2746، 2747، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 968، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7414» «رقم طبعة با وزير 597»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (776): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير علي بن خشرم فمن رجال مسلم. ابن أبي ذئب: اسمه محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة المدني، والمقبري: هو سعيد بن أبي سعيد.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں