🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

276. باب الأدعية - ذكر الشيء الذي إذا دعا المرء به ربه جل وعلا أجابه
دعاؤں کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ اگر آدمی اس کے ساتھ اپنے رب جل وعلا سے دعا کرے تو وہ اسے جواب دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 891
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ رَجُلا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، الأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ" .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، بے شک میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ایک ہے، صمد ہے، ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۞ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی اسے (کسی سے) جنم دیا گیا اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے ذریعے دعا مانگ لی ہے، جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے، تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور دعا کی جائے، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 793، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 891، 892، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1864، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1493، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3475، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3541، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3857، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21115، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23418» «رقم طبعة با وزير 888»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1341). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد، فمن رجال البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں