صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
276. باب الأدعية - ذكر الشيء الذي إذا دعا المرء به ربه جل وعلا أجابه
دعاؤں کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ اگر آدمی اس کے ساتھ اپنے رب جل وعلا سے دعا کرے تو وہ اسے جواب دیتا ہے
حدیث نمبر: 891
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ رَجُلا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، الأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ" .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ! ”میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بے شک میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ایک ہے، صمد ہے، جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی اسے (کسی سے) جنم دیا گیا اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص نےاللہ تعالیٰ کے اس اسم کے ذریعے دعا مانگ لی ہے، جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے، تواللہ تعالیٰ دیتا ہے اور دعا کی جائے، تواللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 888»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1341).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد، فمن رجال البخاري.
الرواة الحديث:
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي