صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
277. باب الأدعية - ذكر البيان بأن دعاء المرء بما وصفنا إنما هو دعاؤه باسم الله الأعظم الذي لا يخيب من سأل ربه به
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہم نے جو دعا بیان کی وہ اللہ کے اسم اعظم کے ساتھ دعا ہے جس سے مانگنے والا اپنے رب سے کبھی خائب نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ الْبَلَدِيُّ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ الرَّهَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ"، وَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ". قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخْبِرُهُ؟ فَقَالَ:" أَخْبِرْهُ" ، فَأَخْبَرْتُ أَبَا مُوسَى، فَقَالَ: لَنْ تَزَالَ لِي صَدِيقًا. قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوئے وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا اور دعا مانگ رہا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا۔ ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں اور میں تجھے گواہ بنا کے یہ کہتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ایک ہے اور صمد ہے، جس نے کسی کو نہیں جنم دیا اور نہ ہی اسے جنم دیا گیا نہ ہی کوئی اس کا ہم سر ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اس نےاللہ تعالیٰ کے اس اسم کے ذریعے مانگا ہے کہ جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے، تو وہ عطا کرتا ہے، جب اس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے، تو وہ دعا کو قبول کرتا ہے۔ پھر ایک شخص مسجد کے پہلو میں قرأت کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو سیدنا داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ یہ عبداللہ بن قیس (یعنی ابوموسیٰ اشعری) ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے بتا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بتا دو میں نے سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی، تو انہوں نے فرمایا تم ہمیشہ میرے دوست رہو گے۔ زید بن حباب نامی راوی کہتے ہیں۔ میں نے یہ روایت زہیر بن معاویہ کو سنائی، تو انہوں نے کہا: میں نے ابواسحاق سبیعی کو یہ حدیث مالک بن مغول کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے: [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 889»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1341): م بجملة المزامير.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير زيد بن الحباب، فمن رجال مسلم، وغيرِ أحمد بن سليمان، فمن رجال النسائي.