صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
281. باب الأدعية - ذكر الخبر الدال على أن دعاء المرء بأوثق عمله قد يرجى له إجابة ذلك الدعاء
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آدمی کی سب سے مضبوط عمل کے ساتھ دعا سے اس کی دعا کے قبول ہونے کی امید کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَرَجَ ثَلاثَةٌ يَتَمَاشَوْنَ، فَأَصَابَهُمْ مَطَرٌ، فَدَخَلُوا كَهْفَ جَبَلٍ، فَانْحَطَّ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَسَدَّ عَلَيْهِمُ الطَّرِيقَ، فَقَالُوا: ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ. فَقَالَ وَاحِدٌ مِنْهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَأَنِّي رُحْتُ يَوْمًا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا، فَأَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَكَرِهْتُ أَنْ أَسْقِيَ وَلَدِي، وَصِبْيَتِي عِنْدَ رِجْلَيَّ يَتَضَاغَوْنَ، فَقُمْتُ قَائِمًا حَتَّى انْفَجَرَ الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا وَأَرِنَا السَّمَاءَ. قَالَ: فَانْفَرَجَ فُرْجَةٌ، فَرَأَوَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، وَأَنِّي سَأَلْتُهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا، حَتَّى تَأْتِيَنِي بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ فِيهَا حَتَّى جَمَعْتُهَا، فَأَتَيْتُهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ، وَلا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلا بِحَقِّهِ، فَتَرَكْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا وَأَرِنَا السَّمَاءَ. قَالَ فَزَالَتْ قِطْعَةٌ مِنَ الْحَجَرِ وَرَأَوَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَعْمَلْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنَ الأَرُزِّ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أَعْطَيْتُهُ فَلَمْ يَأْخُذْ أَجْرَهُ وَتَسَخَّطَهُ، فَأَخَذْتُ الْفَرَقَ فَزَرَعْتُهُ حَتَّى صَارَ مِنْ ذَلِكَ بَقَرًا وَغَنَمًا، فَأَتَانِي بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ وَلا تَظْلِمْنِي أَجْرِيَ، فَقُلْتُ: خُذْ هَذِهِ الْبَقَرَ وَرَاعِيهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلا تَهْزَأْ بِي، قُلْتُ: مَا أَهْزَأُ بِكَ، فَهُوَ لَكَ. وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلا الْفَرَقَ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا. فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین آدمی چلتے ہوئے جا رہے تھے انہیں بارش نے آ لیا وہ لوگ ایک پہاڑ کی غار میں داخل ہو گئے۔ ایک پتھر ان پر آ کر گرا اور اس نے راستے کو بند کر دیا، تو ان لوگوں نے کہا: تم لوگاللہ تعالیٰ سے اپنے سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے وسیلے سے دعا مانگو۔“ ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ بوڑھے اور عمر رسیدہ تھے۔ ایک دن میں شام کے وقت گھر آیا۔ میں نے ان دونوں کے لئے دودھ دوہ لیا جب میں ان کے پاس آیا، تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ میں اپنے (ماں باپ سے پہلے) اپنے بچوں کو دودھ پلا دوں۔ میرے بچے میرے پاؤں میں بلبلاتے رہے، لیکن میں کھڑا رہا، یہاں تک کہ صبح ہوئی وہ (بیدار ہوئے)، تو میں نے ان دونوں کو پلایا۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید میں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا، تو کشادگی نصیب کر اور ہمیں آسمان دکھا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تھوڑی سی کشادگی ہو گئی اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے میری ایک چچازاد تھی جس سے میں شدید ترین محبت کرتا تھا جتنی محبت مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے ایک مرتبہ اس کے قرب کا مطالبہ کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں جب تک تم مجھے ایک سو دینار ادا نہیں کرو گے میں تمہارے (قریب نہیں آؤں گی) میں نے اس کے لئے کوشش کی اور وہ رقم اکٹھی کر کے اس کے پاس آیا جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا، تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے، تماللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ناحق طور پر مہر کو نہ توڑو، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب کر اور ہمیں آسمان دکھا دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو پتھر کا ایک ٹکڑا ہٹ گیا اور انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا۔ تیسرے شخص نے یہ کہا: اے اللہ! میں نے چاولوں کی مخصوص مقدار کے عوض میں ایک شخص کو ملازم رکھا جب رات کا وقت ہوا، تو میں نے اس کا معاوضہ ادا کیا، لیکن اس نے اپنا معاوضہ نہ لیا وہ اس سے ناراض ہو گیا۔ میں نے چاولوں کے پیمانے کو لیا اور میں نے اس کے ساتھ کھیتی باڑی شروع کی، یہاں تک کہ وہ گائے اور بکریوں میں تبدیل ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے اللہ کے بندے! تم اللہ سے ڈرو اور میرے معاوضے میں زیادتی نہ کرو، تو میں نے اس سے کہا: یہ گائے اور ان کے چرواہے کو لے لو، تو اس نے کہا: تماللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا۔ یہ تمہارے ہیں اگر میں چاہتا، تو اسے صرف چاولوں کا ایک پیمانہ دے سکتا تھا۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب کر، تو وہ پتھر وہاں سے ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 894»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (6505).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.