Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب مَعْنَى كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ:
باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6755
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30 الْآيَةَ ".
زبیدی نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اللہ پر ایمان اور اچھائی کی محبت) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے ایک جانور (ماں) کامل الاعضاء جانور (بچے) کو جنم دیتی ہے، کیا تمہیں ان میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور نظر آتا ہے؟ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: یہی اللہ کی (عطا کردہ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق فرمائی، اللہ کی تخلیق میں ردوبدل نہیں ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6755]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ہر مولود (پیدا ہونے والا) فطرت پر پیدا ہوتا ہے، چنانچہ اس کے والدین اس کو یہودی، عیسائی اور مجوسی بنا ڈالتے ہیں، جیسے چوپائے کا بچہ، کامل الاعضاء پیدا ہوتا ہے، کیا تمھیں ان میں کوئی کٹے ہوئے کان والا نظر آتا ہے۔"پھر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔"اس فطرت کی پابندی کرو، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ سرشت بدل نہیں سکتی۔"(روم آیت نمبر30) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6755]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6756
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً، وَلَمْ يَذْكُرْ جَمْعَاءَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: جس طرح ایک (مادہ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کامل الاعضاء ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6756]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے،"جیسے چوپائے کے ہاں چوپایہ پیدا ہوتا ہے۔"اس میں جمعاء (سالم جانور) کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6756]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6757
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: اقْرَءُوا: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ سورة الروم آية 30 ".
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر اس کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے۔ پھر (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کہتے: یہ آیت پڑھ لو: یہی اللہ کی (عطا کردہ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق کی، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو گی، یہی سیدھا مستحکم دین ہے (جس کی انسانی فطرت امانت دار ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6757]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔"پھرفرماتے، یہ آیت پڑھو،"اللہ کی فطرت کی پابندی کرو، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے، اللہ کی فطرت کونہ بدلو، یہی سیدھا مستحکم دین ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6757]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6758
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُشَرِّكَانِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ؟، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ولادت پانے والا نہیں مگر وہ فطرت ہی پر پیدا ہوا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟ آپ نے فرمایا: اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ (بڑے ہو کر) وہ بچے کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6758]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔"چنانچہ اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مشرک بنا ڈالتے ہیں۔"تو ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !بتائیے،اگر وہ اس سے پہلے مرجائے؟آپ نے فرمایا:"اللہ کو خوب علم ہے، انھوں نے جو عمل کرنے تھے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6758]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6759
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ عَلَى الْمِلَّةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں ابن نمیر نے بھی (یہی) حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، (ابومعاویہ اور ابن نمیر کے والد) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابن نمیر کی حدیث میں ہے: کوئی بچہ پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر وہ ملت پر ہوتا ہے۔ اور ابومعاویہ سے ابوبکر نے جو روایت کی اس میں ہے: مگر وہ اس ملت (ملت اسلامی) پر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس (کے کفر یا ایمان) کو بیان کر دیتی ہے۔ اور ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت میں ہے: کوئی ولادت پانے والا نومولود نہیں مگر وہ اسی فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے (ماحول سے اخذ کردہ) خیالات کی ترجمانی کرتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6759]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سےا عمش ہی کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، ابن نمیر کی روایت میں ہے۔"ہر بچہ پیدا ہوتا ہے، وہ ملت پر پیدا ہوتا ہے۔"ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے،"مگر اس ملت پر حتی کہ وہ زبان سے اس کا اظہار کرے۔"اور ابو کریب کی روایت ہے۔"ہر بچہ اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے حتی کہ اس کی زبان اس کو بیان کرے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6759]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُولَدْ يُولَدْ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تَنْتِجُونَ الْإِبِلَ، فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (بچہ) پیدا ہوتا ہے، وہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جس طرح تم اونٹوں کے بچوں کو جنم دلواتے ہو۔ کیا تم ان میں سے کسی کو کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود اس کا کان کاٹ دو۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے دیکھا کہ اگر وہ چھوٹا ہی فوت ہو جائے؟ فرمایا: اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ (چھوٹی عمر میں فوت ہونے والے بچے) کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6760]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمام بن منبہ کو بہت سی احادیث سنائیں، ان میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو بچہ پیدا ہوتا ہے، فطرت پر پیدا ہوتا ہے(اس کی فطرت میں کوئی بگاڑاور خرابی نہیں ہوتی)چنانچہ اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بناتے ہیں، جس طرح تم اونٹ کا بچہ لیتے ہو، کیا تم ان میں کان کٹے پاتے ہو؟ حتی کہ تم خود ہی ان کا کان کاٹتے ہو۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !بتائیں جو بچے چھوٹے ہی فوت ہو جاتے ہیں(بلوغت کو نہیں پہنچتے)؟"آپ نے فرمایا:"اللہ کو خوب علم ہے، انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6760]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2658 ترقیم شاملہ: -- 6761
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ، فَمُسْلِمٌ كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ".
علاء کے والد عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اگر وہ دونوں (صحیح) مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں میں ہاتھ سے مارتا ہے سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے (انہیں اللہ نے اس سے محفوظ رکھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6761]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ہر انسان جسے اس کی والدہ جنتی ہے وہ فطرت پر ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بناتے ہیں، اگر والدین مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے، ہر انسان جسے والدہ جنتی ہے شیطان اس کی کوکھوں میں (دونوں پہلوؤں میں) مکہ مارتا ہے، سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6761]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2659 ترقیم شاملہ: -- 6762
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
ابن ابی ذئب اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے عطاء بن یزید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ (بڑے ہو کر) وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6762]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:"اللہ کو خوب علم ہے، انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2659
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2659 ترقیم شاملہ: -- 6763
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ، وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ، وَمَعْقِلٍ، سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ.
معمر، شعیب اور معقل بن عبیداللہ نے زہری سے یونس اور ابن ابی ذئب کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر شعیب اور معقل کی حدیث میں (مشرکین کی اولاد کی بجائے) مشرکین کے چھوٹے بچوں کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6763]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، شعیب اور معقل کی روایت اولاد کی جگہ ذراری کا لفظ ہے۔(معنی ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2659
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2659 ترقیم شاملہ: -- 6764
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا؟ فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں (تو ان کا انجام کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6764]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کےان بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا،جو بچپن فوت ہو جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا:"اللہ کو خوب علم ہے، انھوں نے کس قسم کے عمل کرنے تھے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2659
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں