صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب مَعْنَى كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ:
باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2660 ترقیم شاملہ: -- 6765
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ ".
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6765]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کےبچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:"جب اللہ نے ان کوپیداکیاہے تو اسے یہ بھی خوب علم ہے،وہ کون سے عمل کرنے والےتھے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2660
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2661 ترقیم شاملہ: -- 6766
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ".
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر بنایا گیا تھا، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6766]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بچہ جسے حضرت خضر نے قتل کیا تھا، اس پر کفر کی مہر لگی ہوئی تھی اور وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو کفر اور سر کشی پر پھنسا دیتا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2661
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6767
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ صَبِيٌّ؟ فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا، وَلِهَذِهِ أَهْلًا ".
فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا: اس کے لیے خوشخبری ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6767]
حضرت اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک بچہ فوت ہو گیا تو میں نے کہا، اس کے لیے مسرت و شادمانی ہے، جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کیا تمھیں معلوم نہیں ہے، اللہ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا ہے تو اس کے لیے بھی باشندے پیدا کیے ہیں اور اس کے لیے بھی اہل پیدا کیے ہیں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ؟ قَالَ: أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ ".
وکیع نے طلحہ بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کے لیے خوشخبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی گناہ کیا، نہ گناہ کرنے کی عمر پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اس کے علاوہ کچھ اور؟ عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا فرمائے، انہیں اس وقت جنت کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6768]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازہ کے لیے بلایا گیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے لیے مسرت و شادمانی ہے، جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی براکام نہیں کیا اور نہ اس کا وقت پایا، آپ نے فرمایا:"یا اور کچھ ہے۔اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! بے شک اللہ نے جنت کے اہل پیدا کیے ہیں انہیں اس کے لیے پیدا کیا ہے، جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے اہل پیدا کیے ہیں انہیں اس کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2662 ترقیم شاملہ: -- 6769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي . ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي ، بِإِسْنَادِ وَكِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
اسماعیل بن زکریا اور سفیان ثوری نے طلحہ بن یحییٰ سے وکیع کی حدیث کے مانند اسی کی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6769]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة