صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
375. باب الأدعية - ذكر ما يدعو المرء به عند وجود الجدب بالمسلمين
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی مسلمانوں پر قحط پڑنے کے وقت کیا دعا مانگے
حدیث نمبر: 991
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَحْطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ. اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلاغًا إِلَى حِينٍ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا، فَرَعَدَتْ، وَأَبْرَقَتْ، وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کے بارے میں حکم دیا۔ اسے عید گاہ میں رکھ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ لوگ اس دن نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سورج کی ٹکیہ ظاہر ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے باغات کے خشک ہو جانے کی اور طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے، تم اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔“ پھر آپ نے یہ فرمایا: ”تمام حمداللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ قیامت کے دن کا مالک ہے: اے اللہ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے: اے اللہ! تو ہی اللہ ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم غریب ہیں، تو ہم پر بارشیں نازل کر اور ہم پر جو چیز تو نازل کرے گا اسے مخصوص مدت کے لئے قوت اور بلاغ بنا دے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھ لی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت لوگوں کی طرف کر لی اور آپ نے اپنی چادر کو الٹا لیا۔ آپ نے اس وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ہوئے تھے پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے اتر آئے پھر آپ نے دو رکعات نماز ادا کی، تواللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کر دیا وہ گرجا بجلی چمکی اور اللہ کے حکم سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مسجد (یعنی عید گاہ) میں ہی تھے کہ نالیاں بہنے لگیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی کہ لوگوں نے اپنے اوپر کپڑے کر لئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 987»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1046). * [لثق] قال الشيخ: قلت: في «الأصل»: «لبق»، والتصحيح من «الموارد» وغيره.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن.