صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
376. باب الأدعية - ذكر ما يدعو به المرء عند اشتداد الأمطار وكثرة دوامها بالناس
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی شدید بارشوں اور ان کے لوگوں پر زیادہ دیر تک جاری رہنے کے وقت کیا دعا مانگے
حدیث نمبر: 992
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَانَ رَجَاءَهُ الْمِنْبَرُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ لِيُغِيثُنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا". قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً وَلا قَزَعَةً بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلا دَارٍ، فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ تُرْسٍ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا. ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَابِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكُفَّهَا عَنَّا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَالأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ". قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الشَّمْسِ ، فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ؟ قَالَ: لا أَدْرِي.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں منبر کے سامنے والے دروازے سے داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے وہ شخص آپ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول الله! مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں راستے منقطع ہو رہے ہیں۔ آپاللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر بارش نازل کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور دعا مانگی۔ ”اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خدا کی قسم! ہمیں اس وقت آسمان میں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، جو ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان ہو۔ کسی گھر اور محلے کے اوپر بادل نہیں تھا اسی دوران اس (پہاڑ) کے پیچھے کی طرف سے ڈھال کی طرح کا بادل نمودار ہوا وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا، تو پھیلنے لگا اور پھر بارش شروع ہو گئی پھر اللہ کی قسم ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔ اگلے جمعے والے دن اس دروازے سے ایک شخص اندر آیا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے وہ آپ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مال مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ راستے منقطع ہو رہے ہیں آپاللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم سے بارش کو روک لے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور دعا مانگی: ”اے اللہ! ہمارے آس پاس (بارش) ہو ہم پر نہ ہو، اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھلے میدانوں میں جنگلات میں بارش ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں، تو بادل چھٹ گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا یہ پہلے والا شخص تھا؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 988»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1016): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، خالد بن مخلد: هو القطواني أبو الهيثم البجلي مولاهم الكوفي: صدوق، له أفراد وشريك بن عبد الله: قال الحافظ في التقريب " صدوق يخطىء، وبقية رجاله رجال الصحيح.