🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. باب سنن الوضوء - ذكر وصف الاستنشاق للمتوضيء إذا أراد الوضوء
وضو کی سنتوں کا بیان - وضو کرنے والے کے لیے ناک میں پانی ڈالنے کی حالت کا ذکر جب وہ وضو کرنا چاہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ:" دَخَلَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ قَالَ لِغُلامٍ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ. قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَسَلَهُمَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، قَالَ: فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ هَذَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَرَفَ بِكَفِّهِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طَهُورُهُ" .
عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میدان میں تشریف لائے، آپ وہاں تشریف فرما ہوئے پھر آپ نے لڑکے سے کہا: میرے پاس وضو کا پانی لے کر آؤ، وہ لڑکا آپ کے پاس پانی کا برتن اور طشت لے کر آیا۔ عبدخیر بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن پکڑا اور اس کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، ہر مرتبہ میں انہوں نے برتن میں ہاتھ داخل نہیں کیا، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھو لیے پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے ناک صاف کیا۔ انہوں نے یہ عمل تین مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر بائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا یہاں تک کہ اسے ڈبو دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس میں موجود پانی سمیت نکالا اور اپنے بائیں ہاتھ پر مسح کیا۔ انہوں نے اپنے سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے دائیں پاؤں پر پانی ڈالا پھر اسے بائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا۔ اس میں سے ایک چلو لیا اور اسے پی لیا پھر یہ بات بیان کی: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے، جو شخص اللہ کے نبی کے وضو کے طریقے کو دیکھنا چاہتا ہو، تو یہ آپ کے وضو کا طریقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5615، 5616، وابن الجارود فى "المنتقى"، 75، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 16، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1056، 1057، 1079، 1340، 1341، 5326، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 91، وأبو داود فى (سننه) برقم: 111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 44، 48، 49، والدارمي فى (مسنده) برقم: 728، 729، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 396، 404، 436، 456، والدارقطني فى (سننه) برقم: 298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 593، 888» «رقم طبعة با وزير 1076»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (101). * [ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى] قال الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من الأصل. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وتقدم برقم (1056)، وسبق تخريجه هناك.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں