علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
177. باب غسل الجمعة
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان -
حدیث نمبر: 1220
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْغُسْلُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ إِتْيَانُ الْجُمُعَةِ فَرْضٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ، وَالْعِلَّةُ فِيهِ أَنَّ الاحْتِلامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى بَلَغَ الصَّبِيُّ وَأَدْرَكَ، بِأَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً كَانَ بَالِغًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلَمْا، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ سورة النور آية 59، فَأَمَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي هَذِهِ الآيَةِ بِالاسْتِئْذَانِ مَنْ بَلَغَ الْحُلَمْ، إِذِ الْحُلَمْ بُلُوغٌ، وَقَدْ يَبْلُغُ الطِّفْلُ دُونَ أَنْ يَحْتَلَمْ، وَيَكُونُ مُخَاطَبًا بِالاسْتِئْذَانِ كَمَا يَكُونُ مُخَاطَبًا عِنْدَ الاحْتِلامِ بِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر بالغ شخص کو جمعہ کے لئے جانا لازم ہے، اور جو شخص (جمعہ ادا کرنے کے لئے) جائے اس پر غسل کرنا لازم ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر بالغ شخص پر جمعے کی نماز کے لئے آنا فرض ہے اس میں علت یہ ہے کہ احتلام ہونا بالغ ہونے کا نشان ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بچہ بالغ ہو جائے یا عمر کے اعتبار سے پندرہ سال کا ہو جائے، تو وہ بالغ شمار ہو گا۔ اگرچہ اسے احتلام نہ ہوا ہو۔ اس کے نزدیکاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ”اور جب تمہارے بچے بالغ ہو جائیں، تو وہ اجازت طلب کریں گے جس طرح ان لوگوں نے اجازت لی جن کا ذکر پہلے ہوا ہے۔“ تو اس آیت میںاللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کا حکم اس شخص کو دیا ہے، جو بالغ ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں لفظ حلم سے مراد بالغ ہونا ہے اور بعض اوقات بچہ احتلام کے بغیر بالغ ہو جاتا ہے اور وہ اجازت لینے کے حکم کا مخاطب بن جاتا ہے جس طرح کا احتلام کے ہمراہ اس حکم کا مخاطب بنتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 316، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1721، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1220، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1370، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1672، وأبو داود فى (سننه) برقم: 342، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5658» «رقم طبعة با وزير 1217»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (370).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، يزيد بن موهب ثقة، وباقي رجال الإسناد على شرط الصحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1220 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية