صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
339. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر العلة التي من أجلها أبيح للعرنيين في شرب أبوال الإبل
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر عرنیین کو اونٹ کے پیشاب پینے کی اجازت دی گئی
حدیث نمبر: 1388
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ وَفْدَ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِقَاحِهِ، فَقَالَ: " اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا، وَأَبْوَالِهَا"، فَشَرِبُوا، حَتَّى صَحُّوا، وَسَمِنُوا، فَقَتَلُوا رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَارْتَدُّوا، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ،" فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الرَّمْضَاءِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کی طرف بھیج دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا تم ان کا دودھ اور ان کا پیشاب پیو ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے اور موٹے تازے ہو گئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ وہ لوگ مرتد ہو گئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں کٹوا دیئے۔ ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر پھینکوا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1385»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. إبراهيم بن محمد التيمي روى له أبو داود والنسائي، وهو ثقة ومن فوقه على شرطهما.