🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

338. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المصرح بأن أبوال ما يؤكل لحومها غير نجسة
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا پیشاب نجس نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَشَرِبُوا حَتَّى صَحُّوا، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ" . قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ: وَهُوَ يُحَدِّثُهُ بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ عبدالملک نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا ان کے کفر کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا یا ان کے گناہ (قتل) کی وجہ سے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1383»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (177): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن وهب بن أبي كريمة: صدوق أخرج له النسائي، وباقي الإسناد رجاله رجال الصحيح. أبو عبد الرحيم: هو خالد بن أبي يزيد الحراني.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الِمَنْتَصِرِ ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِ الإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1384»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث قوي. شريك: هو ابن عبد الله القاضي - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع وباقي رجاله ثقات. إسحاق الأزرق: هو إسحاق بن يوسف الأزرق، وسماك: هو ابن حرب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں