صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب فَي الْكُفَّارِ
باب: کافروں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2804 ترقیم شاملہ: -- 7080
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابومعاویہ اور ابواسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابوعبدالرحمان سلمی سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکلیف دہ باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7080]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ عزوجل سے بڑھ کر کوئی اذیت ناک باتوں کو برداشت کرنے والا نہیں ہے اس کے ساتھ شریک قراردئیے جاتے ہیں اور اس کے لیے اولاد قراردی جاتی ہے پھر بھی وہ ایسے لوگوں کو عافیت و تندرستی عنایت فرماتا ہے اور نہیں رزق سے نوازتا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2804 ترقیم شاملہ: -- 7081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے ابوعبدالرحمان سلمی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے: ”اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے“، انہوں نے اس (قول) کو بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7081]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سےحضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، نبی اکرم سے روایت بیان کرتے ہیں،مگر اس میں آپ کا بول "اللہ کے لیے اولاد ٹھہرائی جاتی ہے۔"موجود نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7081]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2804 ترقیم شاملہ: -- 7082
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ ".
عبیداللہ بن سعید نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے ابوعبدالرحمان سلمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ (ابوموسیٰ اشعری) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نہیں جو تکلیف دہ باتوں پر جنھیں وہ سنتا ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا ہو، لوگ اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں، اس کی اولاد بناتے ہیں اور وہ اس (سب کچھ) کے باوجود انھیں رزق دیتا ہے، عافیت بخشتا ہے اور عطا کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7082]
حضرت عبداللہ بن قیس(ابو موسی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تکلیف دہ بات سن کر، اللہ سے زیادہ برداشت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔"لوگ اس کے مد مقابل ٹھہراتے ہیں اور اس کے لیے اولاد قراردیتے ہیں، اس کے باوجود انہیں روزی دیتا ہے، عافیت بخشتا ہے اور (مال و دولت)عطا فرماتا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة