صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 2856 ترقیم شاملہ: -- 7192
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلَاءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف، ان بنو کعب والوں کے جذع اعلیٰ کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7192]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان بنو کعب کے باپ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2856 ترقیم شاملہ: -- 7193
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبد بن حميد: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ، فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ ".
ابن شہاب نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہتے ہیں: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ جھوٹے خداؤں (بتوں) کے چڑھاوے کے لیے دوہنا بند کر دیا جاتا ہے، اس لیے کوئی شخص ان کو نہیں دوہتا تھا، اور سائبہ وہ جانور ہے جسے جھوٹے خداؤں (کی سواری کے لیے) کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی چیز تک نہیں لادی جاتی۔ اور ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے (بتوں کے نام پر) کھلا چھوڑا جانے والا جانور چھوڑا تھا“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7193]
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، «بَحِيْرَة» ”بحیرہ“ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جاتا ہے، چنانچہ ان کو کوئی شخص اپنے لیے نہیں دوہتا تھا اور «سَآئِبَة» ”سائبہ“ وہ جانور ہے جسے لوگ اپنے معبودان باطلہ کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور ان پر کوئی چیز نہیں لادی جاتی تھی۔ ابن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص ہے، جس نے حیوانوں کو بتوں کے لیے چھوڑا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2128 ترقیم شاملہ: -- 7194
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو (دنیوی زندگی میں) میں نے (خود) نہیں دیکھا۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور (دوسرے گروہ میں) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے (بھی) ننگی ہوں گی، دوسروں کو (گناہ پر) مائل کرنے والی، خود مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر علاوہ بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے (لمبے) فاصلے سے محسوس ہوتی ہو گی“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7194]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ نار کے دو گروہ میں نے نہیں دیکھے، ایک ایسے لوگ جن کے پاس گائیوں کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے، دوسرا گروہ ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود عریاں ہوں گی، وہ دوسروں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوں گے، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2128
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2857 ترقیم شاملہ: -- 7195
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ".
زید بن حباب نے کہا: ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ اگر تمھیں لمبی مدت مل گئی تو تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے، جن کے ہاتھ میں گایوں کی دموں جیسے (کوڑے) ہوں گے، وہ اللہ کے غضب میں صبح گزاریں گے اور اللہ کی سخت ناراضگی میں شام بسر کریں گے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7195]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے طویل عمر پائی تو جلدی ایسے لوگ دیکھو گے۔ یعنی پولیس، جن کے پاس گائیوں کی دموں جیسے کوڑے یا ڈنڈے ہوں گے، وہ صبح اللہ کے غضب میں کریں گے اور شام اللہ کی ناراضی میں کریں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2857 ترقیم شاملہ: -- 7196
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ ".
ابوعامر عقدی نے کہا: ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تمھیں طویل مدت مل گئی تو قریب ہے کہ تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے، جن کی صبح اللہ کی سخت ناراضی میں اور جن کی شام اللہ کی لعنت کے سائے میں ہو گی۔ ان کے ہاتھوں میں گایوں کی دموں کی مانند (کوڑے) ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7196]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم نے طویل زندگی پائی تو عنقریب تم ایسے لوگ دیکھو گے جو صبح اللہ کی ناراضی میں کریں گے اور شام اس کی لعنت میں، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں جیسی چیز ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة