صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب جَهَنَّمَ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا
باب: جہنم کا بیان (اللہ ہم کو اس سے بچائے)۔
ترقیم عبدالباقی: 2842 ترقیم شاملہ: -- 7164
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (قیامت کے) روز جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7164]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جہنم کو لایا جائے گا، اس دن اس کی ستر(70) لگامیں ہوں گی،ہرلگام کے ساتھ ستر(70) ہزار فرشتے ہوں گے، جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2842
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2843 ترقیم شاملہ: -- 7165
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ "، قَالُوا: وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا "،
ابوزناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری یہ آگ، جس کو ابن آدم روشن کرتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصے (کی حرارت) کے برابر ہے“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ لوگ بھی تو کافی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے انہتر حصے زیادہ رکھا گیا ہے، ہر حصہ اس (دنیا کی آگ) کے مانند گرم ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7165]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تمھاری دنیا کی یہ آگ جسے آدم کا بیٹا(انسان)جلاتا ہے جہنم کی گرمی کے ستر حصوں سے ایک حصہ ہے۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا، واللہ! یہ کافی تھی، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا:"دوزخ کی آگ دنیا کی آگ پر انہتر درجہ بڑھادی گئی ہے اور ہر درجہ کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت کے برابر ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2843 ترقیم شاملہ: -- 7166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا.
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوزناد کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر انہوں (معمر) نے کہا: ”وہ سب کے سب اس جیسی حرارت رکھتے ہیں“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7166]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد کی سند سے بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ آپ نے"كلها" کی جگہ "كُلهن"فرمایا:مقصد یکساں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7166]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2844 ترقیم شاملہ: -- 7167
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَدْرُونَ مَا هَذَا؟، قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا "،
خلف بن خلیفہ نے کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی بہت وزنی چیز کے گرنے کی آواز سنی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیسی آواز تھی؟“ کہا: ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، یہ اب اس میں گرا ہے، یہاں تک کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7167]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی چیز کے کرنے کی آواز سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جانتے ہو، یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا:"یہ ایک پتھر ہے،جو ستر(70) سال پہلے آگ میں پھنکا گیا تھا،چنانچہ وہ اب تک گر رہاتھا حتی کہ اب اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2844 ترقیم شاملہ: -- 7168
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: هَذَا وَقَعَ فِي أَسْفَلِهَا فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَهَا.
مروان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”یہ (اب) اس کے نچلے حصے میں گرا ہے اور تم نے اس کے گرنے کی آواز سنی ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7168]
یہی روایت امام صاحب دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"یہ پتھر اس کی تہہ میں گرا ہے چنانچہ تم نے اس کے گرنے کی آواز سنی ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2845 ترقیم شاملہ: -- 7169
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: قَالَ قَتَادَةُ : سَمِعْتَ أَبَا نَضْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى عُنُقِهِ ".
شیبان بن عبدالرحمان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: قتادہ نے کہا: میں نے ابونضرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان (جہنمیوں) میں سے کوئی ایسا ہو گا جس کے ٹخنوں تک آگ لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی کمر تک لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی گردن تک لپٹی ہو گی“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7169]
حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"دوزخیوں میں بعض وہ ہوں گے جنھیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے بعض کو کمروں تک پکڑے گی اور بعض کو آگ گردن تک پکڑے گی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2845 ترقیم شاملہ: -- 7170
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ "،
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابونضرہ کو سنا، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی ایسا ہو گا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہو گی، ان میں سے کوئی ایسا ہو گا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7170]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بعض لوگوں کو آتش دوزخ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی اور بعض کو آگ ان کے زانوؤں تک پکڑے گی اور ان میں سے بعض کو ان کی کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے بعض کو آگ ان کی ہنسلی تک پکڑے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2845 ترقیم شاملہ: -- 7171
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَجَعَلَ مَكَانَ حُجْزَتِهِ حِقْوَيْهِ.
روح نے کہا: ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے (کمر پر ازار باندھنے کی جگہ کے لیے) ”حجرہ“ کے بجائے ”حقویہ“ کا لفظ استعمال کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7171]
یہی روایت امام صاحب دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں"حُجزَتِه"کی جگہ"حِقوَيهِ"ہے دونوں پہلوؤں تک جہاں چادر (تہبند)باندھی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة