صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 2849 ترقیم شاملہ: -- 7182
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا.
ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوصالح سے، اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔ تو کہا جائے گا: اے اہل جنت!“ اس کے بعد ابومعاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: ”یہی (اسی کے مطابق) ہے اس (اللہ) عزوجل کا فرمان“۔ اور انہوں نے نہیں کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی اور (اسی طرح) انہوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7182]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل جنت کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور اہل دوزخ کو آگ میں، کہا جائے گا: اے اہل جنت!“ پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کی، ہاں اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے اس قول میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔“ یہ نہیں کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اور اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ کرنا بھی بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2850 ترقیم شاملہ: -- 7183
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالَ عَبد بن حميد: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ، فَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ: لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ: لَا مَوْتَ كُلٌّ خَالِدٌ فِيمَا هُوَ فِيهِ ".
نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا۔ پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہو کر اعلان کرے گا: اے اہل جنت! اب موت نہیں ہے، اور اے اہل دوزخ! اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7183]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل کر دے گا، پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے اہل جنت! موت نہیں ہے اور اے اہل دوزخ! موت نہیں آئے گی، جو شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7183]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2850 ترقیم شاملہ: -- 7184
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ، حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ: لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ: لَا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ ".
ابن وہب نے کہا: مجھے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے حدیث بیان کی کہ انھیں ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ذبح کیا جائے گا اور اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! (اب) موت نہیں ہے (اور) اے جہنم والو! (اب) موت نہیں ہے۔ اہل جنت کو اپنی خوشی پر مزید خوشی حاصل ہو جائے گی اور جہنم والوں کو اپنے غم پر مزید غم لاحق ہو گا“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7184]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنتی، جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی، دوزخ میں پہنچ جائیں گے، موت کو لایا جائے گا حتی کہ اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا، پھر اعلان کرنے والا پکارے گا: اے اہل جنت! اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخیو! اب موت نہیں ہے، چنانچہ اہل جنت کی مسرت میں مسرت کا اضافہ ہو گا اور اہل دوزخ کے غم و حزن میں غم و حزن کا اضافہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7184]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2851 ترقیم شاملہ: -- 7185
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی داڑھ یا (فرمایا:) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہو جائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی چلنے کی مسافت کے برابر ہو گی“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7185]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی ڈاڑھ یا کافر کی کچلی احد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7185]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2852 ترقیم شاملہ: -- 7186
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ، مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ "، وَلَمْ يَذْكُرِ الْوَكِيعِيُّ فِي النَّارِ.
ابوکریب اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر فاصلہ ہو گا“۔ وکیعی نے ”جہنم میں“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7186]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ میں کافر کے دو کندھوں کا درمیانی فاصلہ، تین دن کی مسافت کے بقدر ہو گا، جبکہ اس کو تیز رفتار سوار طے کرے۔“ وکیع نے «فِي النَّارِ» (آگ میں) بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7186]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2853 ترقیم شاملہ: -- 7187
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے معبدبن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتا ہے، (مگر ایسا کہ) اگر (کسی معاملے میں) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کر دے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اجذ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7187]
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا، ضرور، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کمزور شخص جس کو ضعیف خیال کیا جاتا ہو۔ اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کر دے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ شخص جو بدخو، بھاری بھر کم، پیٹو اور متکبر ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7187]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2853 ترقیم شاملہ: -- 7188
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْر أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا: ”کیا میں تمھاری رہنمائی نہ کروں؟“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7188]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ یہاں «أَلَا أُخْبِرُكُمْ» کی جگہ «أَلَا أَدُلُّكُمْ» ”کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں؟“ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7188]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2853 ترقیم شاملہ: -- 7189
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَكَبِّرٍ ".
سفیان نے ہمیں معبدبن خالد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے، (لیکن ایسا کہ) اگر اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ ہر مال اکھٹا کرنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا، بد اصل، متکبر“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7189]
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ ہر کم حیثیت، جسے حقیر خیال کیا جاتا ہے، اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم اٹھا دے تو اللہ اسے پورا کر دے، کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر بسیار خور، بداصل اور متکبر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7189]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2854 ترقیم شاملہ: -- 7190
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بسا اوقات پراگندہ بالوں والا جسے دروازے پر سے لوٹا دیا جاتا ہے، (ایسا ہوتا ہے کہ) اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ (اللہ) اسے پوری کر دیتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7190]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض دفعہ پراگندہ بال جس کو در، در سے ٹھکرا دیا جاتا ہے، اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لے تو اللہ اس کو پورا کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7190]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2855 ترقیم شاملہ: -- 7191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ". فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، تو (حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا، پھر آپ نے پڑھا: ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ (الشمس: 12) ”جب اس (قبیلے) کا بدبخت ترین شخص اٹھا“ (آپ نے فرمایا: قبیلہ ثمود کا) سب سے طاقتور، شر پھیلانے والا، جس کو اپنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا، جس طرح ابوزمعہ (اسود بن مطلب) ہے، (کونچیں کاٹنے کے لیے) اٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا، (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو) ان کے بارے میں وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو (اس طرح) کوڑے سے مارتا ہے“۔ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”جس طرح لونڈی کو مارتا ہے“ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: ”جس طرح غلام کو مارتا ہے۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کے ساتھ ہم بستری کرے گا“۔ پھر ان (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی: ”تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7191]
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور اس میں (حضرت صالح علیہ السلام کی) اونٹنی کا ذکر کیا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا تذکرہ کیا، چنانچہ ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ [سورة الشمس: 12] کے متعلق فرمایا: ”جب قوم کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا، یعنی اس کے لیے وہ شخص اٹھا جو غالب، سرکش و مفسد اور اپنے خاندان کی پناہ و حفاظت رکھنے والا تھا جیسے ابوزمعہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کو نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کیوں مارتا ہے؟“ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”لونڈی کی مار کی طرح۔“ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: ”غلام کو مارنے کی طرح، شاید اس دن کے آخر میں، وہ اسے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت محسوس کرے۔“ پھر انہیں آواز سے ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، سو فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص، اپنے فعل پر کیوں ہنستا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة