صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
390. باب صفة الصلاة - ذكر خبر قد يوهم بعض المستمعين أنه مضاد لخبر أبي قتادة الذي ذكرناه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض سننے والوں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ ابو قتادہ کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1858
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً، يُضَادُّ فِي الظَّاهِرِ قَوْلَ أَبِي قَتَادَةَ: وَيُطِيلُ فِي الأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ، لأَنَّ الرَّكْعَةَ الأُولَى كَانَ يَقْرَأُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثَلاثِينَ آيَةً بِالتَّرْسِيلِ، وَالتَّرْتِيلِ، وَالتَّرْجِيعِ، وَالرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِثْلَ قِرَاءَتِهِ فِي الأُولَى، بِلا تَرْسِيلٍ وَلا تَرْجِيعٍ، فَتَكُونُ الْقِرَاءَتَانِ وَاحِدَةٌ، وَالأُولَى أَطْوَلُ مِنَ الثَّانِيَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم نے یہ اندازہ لگایا، ظہر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ کا قیام 30 آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا اور آخری دو رکعات میں آپ کے قیام کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ کے قیام کے بارے میں ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعات جتنا ہوتا تھا اور عصر کی نماز کی آخری دو رکعات کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے اندازہ لگایا، پہلی دو رکعات میں آپ کا قیام تیس آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا، یہ روایت بظاہر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کے برخلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے اور دوسری رکعت مختصر ادا کرتے تھے۔ حالانکہ الحمدللہ! ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ پہلی رکعت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیس آیات ٹھہر ٹھہر کر ترتیل اور ترجیع کے ہمراہ پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں اتنی ہی آیات ترتیل اور ترجیع کے بغیر پڑھتے تھے، تو قرأت ایک جتنی ہوتی تھی لیکن پہلی رکعت دوسری سے طویل ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1855»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر (1828).