صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
401. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن على المصلي رفع اليدين عند إرادته الركوع وبعد رفعه رأسه منه كما يرفعهما عند ابتداء الصلاة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نمازی پر لازم ہے کہ وہ رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھائے، جیسا کہ وہ نماز کے آغاز پر ہاتھ اٹھاتا ہے
حدیث نمبر: 1871
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلاةَ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَالْقَابِضِ عَلَيْهِمَا فَوَتَرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ، وَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ أَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عُضْوٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ" .
عباس بن سہل ساعدی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں، میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں (پھر انہوں نے بیان کیا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تھے، تو آپ تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کرتے تھے جب آپ رکوع میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے، پھر رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر یوں رکھ لیتے تھے جس طرح انہیں پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے دونوں بازو سیدھے رکھتے تھے اور انہیں پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ اپنے سر کو اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے اور جھکا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ پھر آپ کھڑے ہو جاتے اور رفع یدین کرتے، یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور آپ کا ہر ایک عضو اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتا پھر آپ سجدے میں جاتے تو اپنی ناک اور پیشانی کو جما کر رکھتے۔ آپ اپنے دونوں بازو اپنے پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے کندھوں کے برابر رکھتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتا، یہاں تک کہ جب آپ (نماز کی رکعات ادا کر کے) فارغ ہوتے تو آپ تشریف فرما ہوتے آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے۔ آپ اپنے دائیں (پاؤں کی انگلیوں) کو قبلہ کی طرف رکھتے تھے۔ آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں زانو پر رکھتے تھے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں زانو پر رکھتے تھے اور اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1871]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1868»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (723).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين، إلا أن فليح بن سليمان- وإن احتج به البخاري وأصحاب السنن، وروى له مسلم حديثاً واحداً- ضعفه يحيى بن معين، والنسائي، وأبو داود، وقال الساجي: هو من أهل الصدق، وكان يهم، وقال الدارقطني: مختلف فيه، ولا بأس به، وقال ابن عدي: له أحاديث صالحة مستقيمة، وغرائب، وهو عندي لا بأس به، ومثله يقوى حديثه عند المتابعة، وهذا منها.