🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

627. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما أومأنا إليه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2106
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أُمِرْتُمْ فَأَتَوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُ عَنْهُ فَانْتَهُوا" . قَالَ ابْنُ عَجْلانَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ فِيهِ:" وَمَا أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَهُوَ الَّذِي لا شَكَّ فِيهِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَّوَاهِيَ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا عَلَى الْحَتْمِ وَالإِيجَابِ، حَتَّى تَقُومَ الدَّلالَةُ عَلَى نُدْبِيَّتِهَا، وَأَنَّ أَوَامِرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَسْبِ الطَّاقَةِ وَالْوُسْعِ عَلَى الإِيجَابِ، حَتَّى تَقُومَ الدَّلالَةُ عَلَى نُدْبِيَّتِهَا، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، ثُمَّ نَفَى الإِيمَانَ، عَنْ مَنْ لَمْ يُحَكِّمْ رَسُولَهُ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَجِدُونُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَضَى وَحَكَمَ حَرَجًا، وَيُسَلِّمُوا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا بِتَرْكِ الآرَاءِ الْمَعْكُوسَةِ وَالْمُقَايَسَاتِ الْمَنْكُوسَةِ، فَقَالَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو، تم سے پہلے والے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے، جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تم اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو اور جس چیز سے میں تمہیں منع کر دوں اس سے باز آ جاؤ۔ ابن عجلاں نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: جس چیز کے بارے میں، میں تمہیں اطلاع دوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول نہی کی تمام روایات حتمی اور لازم قرار دینے کے طور پر ہیں جب تک ان کے مستحب ہونے کے بارے میں دلیل ثابت نہیں ہو جاتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام پر عمل کرنا اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق لازم ہے، جب تک ان کے مستحب ہونے پر دلیل قائم نہیں ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] رسول تمہیں جو دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے ایمان کی نفی کر دی ہے جو اس کے رسول کو آپس کے اختلافی معاملات میں ثالث تسلیم نہیں کرتا اور رسول نے جو فیصلہ دیا ہوا ہو اس کے بارے میں اپنے ذہن میں کوئی الجھن محسوس کرتا ہے، اور وہ (اپنے معاملات کو) اللہ اور اس کے رسول کے مکمل طور پر سپرد نہیں کر دیتا اور معکوس آراء کو ترک نہیں کرتا اور منحوس قیاس کو ترک نہیں کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تم کو ثالث نہ بنائیں اور پھر وہ اس چیز کے بارے میں اپنے ذہن میں کوئی حرج محسوس نہ کریں جو تم نے فیصلہ دیا ہے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7288، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1337، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2508، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 21، 2105، 2106، 3704، 3705، 6245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2618، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3585، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2679، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1، 2، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2705، 2706، 2707، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7484» «رقم طبعة با وزير 2103»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں