🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
باب: دجال کا اللہ کے نزدیک حقیر ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2939 ترقیم شاملہ: -- 7378
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ، قَالَ: " وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالْأَنْهَارَ، قَالَ: " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ".
ابراہیم بن حمید رؤاسی نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اس (کے حوالے) سے تمھیں کیا بات اتنا تھکا رہی ہے؟ وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں اس کے ہمراہ کھانے (کے ڈھیر) اور (پانی کے) دریا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک وہ اس سے حقیر تر ہے (کہ ایسی چیزوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کر سکے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7378]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیوں تھکتے ہو؟ (کیوں فکر مند ہو) وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ساتھی کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانا اور دریا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے نزدیک اس سے ہلکا اور حقیر ہے کہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کو گمراہ کر سکے یا ان پر ان چیزوں کی حقیقت چھپ سکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7378]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2939 ترقیم شاملہ: -- 7379
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، قَالَ: " وَمَا سُؤَالُكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ "،
ہشیم نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا: تمھارے سوال کا (سبب) کیا ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: وہ (لوگ) کہتے ہیں اس کے ہمراہ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کا دریا ہو گا، فرمایا: وہ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7379]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ دریافت نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساتھی کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی اور گوشت کا پہاڑ ہوگا اور پانی کا دریا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ حقیر ہے کہ اس کے ذریعے وہ (کسی کو) گمراہ کر سکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2939 ترقیم شاملہ: -- 7380
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ، فَقَالَ لِي: أَيْ بُنَيَّ.
وکیع، جریر، سفیان، یزید بن ہارون اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے بیٹے! [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7380]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے اسماعیل ہی کی مذکورہ بالا سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ یزید کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے میرے پیارے بچے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں