صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قُرْبِ السَّاعَةِ:
باب: قیامت کا قریب ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2949 ترقیم شاملہ: -- 7402
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ ".
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”قیامت صرف بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7402]
حضرت عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"قیامت صرف شریر لوگوں پر قائم ہوگی،"(کیونکہ اہل ایمان فوت ہوجائیں گے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2950 ترقیم شاملہ: -- 7403
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَهُوَ يَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا ".
یعقوب نے ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ انگوٹھے کے ساتھ والی (شہادت کی انگلی) اور بڑی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”میں اور قیامت اس طرح (ساتھ ساتھ) بھیجے گئے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7403]
حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپ انگوٹھے سے متصل اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے فرمارہے تھے،"مجھے اورقیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ "، قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ، يَقُولُ: فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ کو سنا، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو ان (شہادت اور بڑی انگلیوں) کی طرح (ساتھ ساتھ) مبعوث کیا گیا ہے۔“ شعبہ نے کہا: اور میں نے قتادہ سے ان کے حدیث بیان کرنے کے دوران میں سنا: جتنی ان میں سے ایک انگلی دوسری سے بڑی ہے (اتنے سے زمانے کا فرق ہے)، مجھے معلوم نہیں یہ (معنی) انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا یا خود قتادہ نے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7404]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں اور قیامت ان انگلیوں کی طرح متصل بھیجے گئے ہیں،"شبعہ کہتے ہیں،قتادہ اپنے بیان میں کہتے تھے،جس طرح ایک دوسری سے (معمولی) زائد ہے،تو مجھے معلوم نہیں،قتادہ یہ تفسیر حضرت انس سے نقل کرتے تھے یا اپنی طرف سے بیان کرتے تھے،یعنی ہمارے درمیان کی مدت،انسانوں کی پوری مدت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7404]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7405
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ وَأَبَا التَّيَّاحِ يُحَدِّثَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسًا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا "، وَقَرَنَ شُعْبَةُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِيهِ،
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ اور ابوتیاح کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، ان دونوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ اور شعبہ نے اسے بیان کرتے ہوئے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7405]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں اور قیامت کو اس طرح متصل بھیجاگیا ہے،"شعبہ نے نقل کرتے ہوئے،اپنی دونوں انگلیوں،شہادت کی اور درمیانی کوملایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7406
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا،
معاذ اور محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7406]
امام صاحب دو اور اساتذہ کی سندوں سے،ابوتیاح سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7407
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَمْزَةَ يَعْنِي الضَّبِّيَّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے، انہوں نے حمزہ ضبی اور ابوتیاح سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7407]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے حمزہ ضبی اورابوتیاح سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7408
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ، قَالَ: وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ".
معبدنے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔“ کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7408]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں اور قیامت ان دوانگلیوں کی طرح متصل بھیجے گئے ہیں،"اور آپ نے شہادت کی انگلی کو درمیان والی انگلی سے ملایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2952 ترقیم شاملہ: -- 7409
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ؟ فَنَظَرَ إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ، فَقَالَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: اعراب (بدو لوگ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ان میں سب سے کم عمر انسان کی طرف دیکھ کر فرماتے: ”اگر یہ زندہ رہا تو یہ بوڑھا نہیں ہوا ہو گا کہ تم پر تمہاری (قیامت کی) گھڑی آ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7409]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں بدو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے،تو آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے،قیامت کب ہوگی؟تو آپ ان میں سے سب سے نوخیز(عمر) انسان کو دیکھ کر فرماتے،"اگر یہ زندہ رہا،تو اس کوبوڑھا ہونے سےپہلے،تمہاری قیامت یعنی موت واقع ہوجائے گی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2953 ترقیم شاملہ: -- 7410
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہو گی؟ اور اس کے پاس انصار میں سے ایک لڑکا بیٹھا تھا جسے محمد کہا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو شاید اسے بڑھاپا نہ پہنچے گا کہ (تمہاری) قیامت آ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7410]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،قیامت کب قائم ہوگی؟آپ کے پاس محمد نامی ایک انصاری لڑکاتھا،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر یہ نوعمر زندہ رہا،تو ممکن ہے،یا بوڑھا نہ ہوسکے،حتی کہ(اس نسل کی) قیامت قائم ہوجائے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2953 ترقیم شاملہ: -- 7411
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، فَقَالَ: " إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ "، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: ذَاكَ الْغُلَامُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ.
معبدبن ہلال عنزی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے اذد شنو کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی، پھر فرمایا: ”اگر یہ لڑکا لمبی عمر پا گیا تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہو گا کہ (تمہاری) قیامت قائم ہو جائے گی۔“ (معبدنے) کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7411]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:قیامت کب قائم ہوگی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے،پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے اذدشنو،کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی،پھر فرمایا؛"اگر یہ لڑکا لمبی عمر پاگیا تو اسے بڑھایا نہیں آیا ہوگا کہ(تمہاری) قیامت قائم ہوجائےگی۔"(معبدنے) کہا:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر (17 سال کا) تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة