صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
144. بَابُ يُكَبِّرُ وَهْوَ يَنْهَضُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ:
باب: جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھے تو تکبیر کہے۔
حدیث نمبر: Q825
وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يُكَبِّرُ فِي نَهْضَتِهِ.
اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت تکبیر کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: Q825]
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" صَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ رَفَعَ وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ"، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیج بن سلیمان نے، انہوں نے سعید بن حارث سے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور جب انہوں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو پکار کر تکبیر کہی پھر جب سجدہ کیا تو ایسا ہی کیا پھر سجدہ سے سر اٹھایا تو بھی ایسا ہی کیا اسی طرح جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوئے اس وقت بھی آپ نے بلند آواز سے تکبیر کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 825]
حضرت سعید بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو جس وقت انہوں نے اپنا سر (پہلے) سجدے سے اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا اور جب انہوں نے (دوسرے سجدے سے) سر اٹھایا اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو بآواز بلند «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا۔ پھر انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ صَلَاةً خَلْفَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ"، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي، فَقَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ آپ نے جب سجدہ کیا، سجدہ سے سر اٹھایا دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو ہر مرتبہ تکبیر کہی۔ جب آپ نے سلام پھیر دیا تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ انہوں نے واقعی ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا کہ مجھے انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 826]
حضرت مطرف رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، چنانچہ وہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی یا کہا کہ انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة