صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3019 ترقیم شاملہ: -- 7533
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ".
عبدہ بن سلیمان نے ہشام (بن عروہ) سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: "یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا (بڑھاتا) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے (خود بھی) کھا سکتا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7533]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] ”اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے“ کے متعلق روایت ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا (بڑھاتا) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے کھا سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7533]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3019
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3019 ترقیم شاملہ: -- 7534
(حديث موقوف) وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله تَعَالَى " وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي وَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ "،
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور جو شخص غنی ہو وہ اجتناب کرے اور جو شخص ضرورت مند ہو وہ عرف اور رواج کے مطابق کھا لے" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ (آیت) یتیم کے سرپرست کے متعلق نازل ہوئی کہ جب وہ محتاج ہو تو اس کے مال میں سے معروف طریقے سے اتنا لے سکتا ہے جتنا اپنا مال (استعمال کرتا تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7534]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] ”اور جو مستغنی ہو، بے نیاز ہو، وہ بچے (کچھ نہ لے) اور جو محتاج ہو، وہ دستور کے مطابق کھا لے“ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت یتیم بچے کے نگران کے بارے میں اتری ہے، وہ اس کے مال سے لے سکتا ہے اگر وہ محتاج (ضرورت مند) ہو، دستور کے مطابق، مال کی مقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7534]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3019
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3019 ترقیم شاملہ: -- 7535
ابن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7535]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بھی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7535]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3019
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3020 ترقیم شاملہ: -- 7536
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ " إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ سورة الأحزاب آية 10، قَالَتْ: " كَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "جب کافر تم پر چڑھ آئے تمھارے اوپر کی جانب سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل منہ کو آنے لگے" کے متعلق روایت کی، (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: "یہ خندق کے روز ہوا تھا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7536]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ عزوجل کے اس ارشاد ﴿إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ﴾ [سورة الأحزاب: 10] ”اور جب وہ (کافر) تم پر تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے“ کے بارے میں فرماتی ہیں: ”یہ خندق کے روز کا واقعہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7536]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3020
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3021 ترقیم شاملہ: -- 7537
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 الْآيَةَ، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، فَتَطُولُ صُحْبَتُهَا، فَيُرِيدُ طَلَاقَهَا، فَتَقُولُ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي، وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنِّي فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ ".
عبدہ بن سلیمان نے کہا: ہمیں ہشام (ابن عروہ) نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (آیت): "اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے بے رغبتی یا روگردانی کا اندیشہ محسوس کرے" مکمل آیت کے بارے میں روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: یہ آیت اس عورت کے متعلق نازل ہوئی تھی جو کسی مرد کے نکاح میں ہو۔ اس کی صحبت میں لمبا عرصہ بیت کیا ہو وہ اسے طلاق دینا چاہے تو وہ (عورت) کہے مجھے طلاق نہ دو اپنے پاس رکھو۔ تم میری طرف سے (میرے واجبات سے) بری الذمہ ہو، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7537]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس آیت ﴿اور اگر عورت کو اپنے خاوند سے نفرت و کراہت (بدسلوکی) اور اعراض (بے رخی) کا خطرہ ہو﴾ [سورة النساء: 128] کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ اس عورت کے بارے میں اتری ہے جو کسی مرد کی صحبت و رفاقت میں طویل عرصہ گزارتی ہے، اب وہ اسے طلاق دینا چاہتا ہے تو وہ اسے کہتی ہے: مجھے طلاق نہ دو اور مجھے اپنے پاس رکھو اور میں تمہیں اجازت دیتی ہوں (تم میری باری دوسری بیوی کو دے دو یا دوسری شادی کر لو) تو یہ آیت اتری۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7537]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3021
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3021 ترقیم شاملہ: -- 7538
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ " وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128، قَالَتْ: نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَسْتَكْثِرَ مِنْهَا وَتَكُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ، فَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَتَقُولُ لَهُ: أَنْتَ فِي حِلٍّ مِنْ شَأْنِي ".
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے بے رغبتی یا روگردانی کا اندیشہ محسوس کرے" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: "یہ (آیت) اس عورت کے متعلق نازل ہوئی جو (مدت سے) کسی مرد کے ہاں ہو۔ (اسے اندیشہ ہو) کہ شاید اب وہ اس سے (اپنے تعلق کو) زیادہ نہ کرے گا۔ اور اس عورت کو اس کا ساتھ میسر ہو اور اولاد ہو اور یہ نہ چاہے کہ وہ (مرد) سے چھوڑ دے تو اس سے کہہ دے کہ تم میرے معاملے میں (حقوق زوجیت سے) بری الذمہ ہو۔" [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7538]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128] ”اور اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدسلوکی اور بے رخی کا خوف ہو“ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی مرد کی بیوی ہے، شاید وہ اس سے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا اور وہ اس کو پسند نہیں ہے، لیکن وہ اس کے ساتھ عرصہ گزار چکی ہے اور اولاد بھی ہے اور اس کو یہ بات ناپسند ہے کہ خاوند اس کو چھوڑ دے، اس لیے وہ اس کو کہتی ہے: ”تجھے میرے معاملے میں آزادی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7538]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3021
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3022 ترقیم شاملہ: -- 7539
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي " أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبُّوهُمْ "،
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بھانجے! لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے ان کو برا کہنا شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7539]
ہشام رحمہ اللہ بن عروہ رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد آنے والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے بخشش کی دعا کریں اور ان لوگوں نے ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7539]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3022
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3022 ترقیم شاملہ: -- 7540
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7540]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3022
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7541
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ " وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا "جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے" چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس (آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز (قرآن کی کسی دوسری آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان) نے اس کو منسوخ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7541]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ کا اس آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے“ کے بارے میں اختلاف ہو گیا، چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے اس (آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں نازل ہوئی، پھر کسی چیز نے اس کو منسوخ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7542
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ.
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے یہ آیت آخر میں اترنے والی آیات میں اتری۔ اور نضر کی روایت میں ہے یہ (آیت) یقیناً ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں اتریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7542]
امام صاحب یہ روایت تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابن جعفر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آخر میں اترنے والی آیات میں اتری ہے، اور نضر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے: ”یہ آخر میں اترنے والی آیات میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة