صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1033. فصل في التراويح
تراویح کا بیان -
حدیث نمبر: 2541
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَؤُلاءِ؟" فَقِيلَ: نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِهِمْ، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَابُوا، أَوْ نِعْمَ مَا صَنَعُوا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے لوگ مسجد کے ایک گوشے میں رمضان کے مہینے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں عرض کی گئی: یہ کچھ لوگ ہیں، جنہیں قرآن نہیں آتا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے ہیں وہ لوگ ان کے نماز کی پیروی کر رہے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) انہوں نے جو کیا ہے وہ عمدہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2541]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2532»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (243).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2542
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: " قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ" ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز ادا کی کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی اگلی رات جب آپ نے نماز ادا کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تیسری یا چوتھی رات میں بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے، صبح ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے جو کیا (یعنی تم لوگ جو نماز ادا کرنے آئے تھے) وہ میں نے دیکھ لیا تھا لیکن میں اس لیے تمہاری طرف نہیں آیا مجھے یہ اندیشہ تھا، یہ تم پر فرض ہو جائے گی۔ (راوی کہتے ہیں) یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2542]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2533»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1243): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين