صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1057. فصل في قيام الليل - ذكر الأمر للمرء أهله بصلاة الليل
قیام الليل کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنے اہل کو رات کی نماز کے لیے جگائے
حدیث نمبر: 2566
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ فَقَالَ: " أَلا تُصَلُّونَ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 .
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ امام زین العابدین رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ ان کے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) نے انہیں یہ بتایا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگوں نے نماز ادا نہیں کی؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہیں، وہ جب ہمیں بیدار کرنا چاہتا ہے بیدار کر دیتا ہے (تو آج اس نے بیدار نہیں کیا، تو ہم بھی نہیں اٹھے)؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب میں نے یہ گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی ارشاد نہیں فرمایا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مارتے ہوئے یہ آیت پڑھ رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] ”انسان سب سے زیادہ بحث کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2566]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1127، 4724، 7347، 7465، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 775، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1139، 1140، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2566، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 716» «رقم طبعة با وزير 2557»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (749)، «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1140): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم