صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1126. فصل في قيام الليل - ذكر ما كان يقرأ صلى الله عليه وسلم في الركعتين اللتين كان يركعهما بعد الوتر
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں کیا پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2635
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ، جَعَلَ الثَّمَانَ سِتًّا، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ إِذَا زُلْزِلَتْ" أَبُو حُرَّةَ اسْمُهُ وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سعد بن ہشام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے، تو دو مختصر رکعتیں ادا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے موجود ہوتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر مسواک کرتے اور وضو کرتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، دو مختصر رکعتیں ادا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر آٹھ رکعات ادا کرتے جن میں ایک جتنی قرأت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت کے ذریعے انہیں وتر کر لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات کو چھ کر دیا اور ساتویں رکعت کے ذریعے وتر ادا کر لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الکافرون اور سورۃ الزلزال کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2626»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1419). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف