🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1127. فصل في قيام الليل - ذكر إباحة الاضطجاع للمتهجد بعد فراغه من ورده قبل طلوع الفجر
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ تہجد کرنے والا اپنے ورد کے بعد فجر کے طلوع ہونے سے پہلے لیٹ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2636
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْقُبُهُ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَإِذَا بِلالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا" ، قَالَ كُرَيْبٌ: فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَذَكَرَ:" عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي"، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھولا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جو درمیانے درجے کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادہ مرتبہ اعضاء کو نہیں دھویا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور نماز ادا کرنے لگے، میں بھی اٹھا، میں نے یوں ظاہر کیا جیسے ابھی بیدار ہوا ہوں، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے (کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لے رہا تھا، میں اٹھا میں نے وضو کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف آ کر کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان پکڑے اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تیرہ رکعات میں پوری ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے تو خراٹے لیا کرتے تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا، اور اس (نماز) میں یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! تو میرے دل میں نور کر دے، میری بصارت میں نور کر دے، میری سماعت میں نور کر دے، میرے دائیں طرف نور کر دے، میرے بائیں طرف نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو زیادہ کر دے۔“ کریب نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے ہوئی انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی جس میں یہ الفاظ بھی بیان کیے: ”میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں اور میری کھال میں (نور) کر دے۔“ انہوں نے دو خصلتوں کا ذکر بھی کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،وابن الجارود فى "المنتقى"، 10، 11، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، 2196، 2579، 2592، 2626، 2627، 2636، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، 5043، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، 476، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868» «رقم طبعة با وزير 2627»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1226): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں