صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1185. باب المسافر - ذكر الإباحة للمرء أن يزيد في هذا الدعاء كلمات أخر
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اس دعا میں دیگر الفاظ کا اضافہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2697
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلٍ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسَدِيِّ ، قَالَ: رَكِبَ عَلِيٌّ دَابَّةً، فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ"، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا، وَحَمَلَنَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَرَزَقَنَا مِنَ الطَّيِّبَاتِ، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَهُ تَفْضِيلا: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 14 - 14"، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ" ، ثُمَّ قَالَ: فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا، وَأَنَا رِدْفُهُ.
علی بن ربیعہ اسدی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوئے تو آپ نے «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی، پھر جب آپ اس پر سوار ہو گئے، تو آپ نے یہ پڑھا: ” «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے“، ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 70] ”جس نے ہمیں عزت عطا کی، ہمیں خشکی اور سمندری راستوں پر چلنے کا موقع دیا۔ ہمیں پاکیزہ رزق عطا کیا، اور ہمیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر فضیلت دی۔“ ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم تو اسے قابو میں نہیں کر سکتے تھے۔ بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”تکبیر“ کہی، پھر یہ کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، بے شک تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2697، 2698، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2496، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2602، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3446، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10426، وأحمد فى (مسنده) برقم: 764» «رقم طبعة با وزير 2686»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2342). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن