صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1308. باب العيدين - ذكر البيان بأن صلاة العيد يجب أن تكون قبل الخطبة
عید الفطر اور عید الأضحیٰ کا بیان - اس بات کا بیان کہ عید کی نماز خطبہ سے پہلے ہونی چاہیے
حدیث نمبر: 2823
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَقِيلَ لَهُ: أَشَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مَعَهُ مِنَ الصِّغَرِ، خَرَجَ حَتَّى أَتَى الْعِلْمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلالٌ، فَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَرْمِيَنَّ بِأَيْدِيهِنَّ، وَيَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلالٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلالٌ إِلَى بَيْتِهِ" .
عبدالرحمن بن عابس بیان کرتے ہیں۔ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ان سے دریافت کیا گیا: کیا آپ عید کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اگر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب خاص حاصل نہ ہوتا تو کم سن ہونے کی وجہ سے میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہو پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ کثیر بن صلت کے گھر کے پاس موجود نشان تک آئے وہاں آپ نے نماز ادا کی پھر آپ نے خطبہ دیا، پھر آپ خواتین کے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے آپ نے خواتین کو وعظ و نصیحت کی آپ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو میں نے خواتین کو دیکھا، وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے صدقے کی چیزیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2812»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «حجاب المرأة» (31/ 6)، «صحيح أبي داود» (1040): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري