صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1360. باب صلاة الخوف - ذكر البيان بأن هذه الصلاة التي ذكرناها كان العدو بين المسلمين وبين القبلة فيها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ اس نماز میں دشمن مسلمانوں اور قبلہ کے درمیان تھا
حدیث نمبر: 2877
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُوا قِتَالا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، قَالُوا: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً قَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِذَلِكَ فَذَكَرَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَلِكَ، فَقَالَ: قَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ صَلاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الأُولَى، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ، صَفَفْنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الأَوْلُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَامَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَقَدَّمُوا فَقَامُوا مَقَامَ الصَّفِّ الأَوْلِ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الأَوْلُ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الأَوْلُ مَعَهُ، ثُمَّ قَعَدَ فَسَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلاءِ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہینہ قبیلے کے گروہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا انہوں نے انتہائی شدید لڑائی کی جب ہم ظہر کی نماز ادا کرنے لگے، تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک ہی مرتبہ ان پر حملہ کر دیں، تو ہم انہیں ختم کر دیں گے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: وہ لوگ کہہ رہے ہیں، ہمارے اور ان کے درمیان یہ نماز ہے، جو ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے، جب نماز کا وقت ہوا، تو ہم نے دو صفیں بنا لیں مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی رکوع میں گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو پہلی صف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، تو دوسری صف نے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور پہلی صف والوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے پہلی صف والے پیچھے ہٹ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی تکبیر کہی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی رکوع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے پھر دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیرا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوزبیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس طرح تمہارے یہ امراء نماز ادا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2866»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1122): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم