🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1359. باب صلاة الخوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن مجاهدا لم يسمع هذا الخبر من أبي عياش الزرقي ولا لأبي عياش الزرقي صحبة فيما زعم
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ مجاہد نے یہ خبر ابو عیاش زرقی سے نہیں سنی اور نہ ہی ابو عیاش زرقی کی صحابیت ہے جیسا کہ دعویٰ کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2876
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَرَدْنَا لأَصَبْنَاهُمْ غُرَّةً، أَوْ لأَصَبْنَاهُمْ غَفْلَةً، قَالَ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلاحَ، وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَفَّيْنِ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلَوهُمْ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الأَخَرُ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ هَؤُلاءِ، ثُمَّ نَكَصَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ الآخَرُونَ، ثُمَّ اسْتَوُوا مَعَهُ فَقَعَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، صَلاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ" .
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر موجود تھے مشرکین کے سالار خالد بن ولید تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ظہر کی نماز ادا کی مشرکین نے یہ کہا: یہ لوگ ایسی حالت میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کر سکتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کی غفلت میں ان پر حملہ کر سکتے تھے راوی کہتے ہیں: ظہر اور عصر کے درمیان قصر نماز کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی لوگوں نے اپنے ہتھیار پکڑ لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی انہوں نے دو صفیں بنائیں ان کا رُخ دشمن کی طرف تھا اور مشرکین کا رخ ان کی طرف تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ان سب لوگوں نے تکبیر کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ان سب لوگوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو ان سب نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی اور دوسرے لوگ ان کی حفاظت کرتے رہے، جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے، تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر وہ والی صف پیچھے ہٹ گئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی دوسرے لوگ آگے آ گئے ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، تو ان سب نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے، تو دوسرے لوگوں نے سجدہ کیا، پھر یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدھے ہوئے اور یہ سب لوگ بیٹھ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عسفان کے مقام پر یہ نماز پڑھائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوسلیم کے ساتھ مقابلے کے دن یہ نماز پڑھائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1548، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1236، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 686، 2503، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6098، 6106، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16847» «رقم طبعة با وزير 2865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں